شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 548

شحنۂِ حق — Page 402

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۸۸ شحنه حق کیا پیش جا سکتے ہیں ویدوں کی شرتیاں خود ثابت کر رہی ہیں کہ وہ قدیم نہیں ہیں ۔ دیکھورگ وید اشتک اوّل پہلا ادھیائے انوک سکت اشرتی (۲) ایسا ہو کہ اگنی جس کی مہما زمانہ قدیم اور زمانہ حال کے رشی کرتے چلے آئے ہیں دیوتاؤں کو اس طرف متوجہ کرے۔ سو جب کہ وید آپ ہی قائل ہیں کہ ان کے ظہور سے پہلے ایک زمانہ گزر چکا ہے عارف اور الہام یاب بھی گزر چکے ہیں تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وید بہت پیچھے ہوئے ہیں چنانچہ ساینا چارچ وغیرہ بھاشے کاروں نے یہی معنے لکھے ہیں اور پھر اسی رگ وید میں ایسے بادشاہوں کا بھی ذکر ہے جو ان ویدوں کے وجود سے پہلے گزر چکے ہیں اور محققین نے ثابت کرلیا ہے کہ جن رشیوں کے نام سکتوں پر درج ہیں اکثر ان کے قریب قریب بیاس جی کے زمانہ سے ہوئے ہیں اور ویدوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ویدوں کے زمانہ میں اصل باشندے اس ملک کے اور تھے جو کسی اور کتاب کو الہامی تسلیم کئے بیٹھے تھے اور ویدوں اور ویدوں کے دیوتاؤں کو نہیں مانتے تھے ۔ اسی جہت سے اکثر باہم لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں ۔ یہی رائے پر و فیسر ولسن صاحب نے جابجا اپنے وید بھاش میں لکھی ہے ۔ افسوس ہندو لوگ اردو اور انگریزی ترجمہ ویدوں کو ایسا برا جانتے ہیں کہ ان کی طرف نظر کرنا بھی نہیں چاہتے اور سنسکرت تو ایسی نابود ہے ۳۸ کہ مشکل سے یقین کیا جاتا ہے کہ لاکھ ہندو میں سے کوئی ایک بھی ایسا سنسکرت دان ہو کہ ویدوں کو صاف طور پر پڑھ سکے پھر اس تعصب اور اس نادانی کی کچھ نہایت ہے کہ نادیدہ ویدوں کی نسبت خواہ نخواہ قدامت کا دعوی کئے بیٹھے ہیں اور سمیر پر بت کی طرح ایک خیالی بزرگی کا تاج اس کو پہنا یا گیا ہے خیال کرنا چاہیے کہ بدھ جی کس قدر نامی و مشہور عارف اور پنڈتوں کے سرتاج گزرے ہیں جن کی عالی تحقیقاتوں کے آگے دیانندی خیالات ایک تودہ گوبر سے