شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 548

شحنۂِ حق — Page 392

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۷۸ شحنه حق ایسے پختہ ہیں کہ سر جائے دھرم جائے ایمان جائے مگر بازی نہ جائے ۔سو اب اسی بنا پر سب کا رروائی ہوتی ہے اور لالہ شرمیت اور ملا وامل ساکنان قادیان کی طرف سے جو ایک اشتہار شائع ہوا تھا جو ہم مرزا کو فریبی جانتے ہیں ملہم من اللہ نہیں سمجھتے وہ بھی درحقیقت قومی دیوی کو بھینٹ چڑھائی گئی تھی ۔ ور نہ جو واقعی بات ہے اس کو تو ان کا جی خوب جانتا ہے مگر اسی خیال سے جو ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں ان ہر دو آریوں نے بھی افتراؤں پر کمر بستہ کر رکھی ہے اور یہ خیال یک لخت بھلا دیا کہ ہمارے سر پر خدا بھی ہے سو چونکہ خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ایک اقبال مند کے لئے جیسے دوستوں کے وجود کو چا ہتا ہے ایسے ہی دشمنوں کے وجود کو بھی ۔ اس لئے ہم ان دشمنوں کے وجود کو بھی خالی از حکمت نہیں سمجھتے کیونکہ شمع صداقت کے لئے پروانوں کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ آفتاب با وجود اتنی مقدار اتنی بلندی اور اتنی تیز شعاعوں کے دشمنوں سے امن میں نہیں اور دشمن بھی وہی جو در حقیقت اسی کے آوردہ اور دست پروردہ ہیں ۔ ایک طرف با دل اس کا دشمن ہے جو اس کی نورانی صورت پر اپنی سیاہ چادر کا پردہ ڈالنا چاہتا ہے اور ایک طرف غبار اُس سے عداوت کر رہی ہے ۔ جو اس کے صافی چہرہ پر دھبہ لگا نا چاہتی ہے لیکن آفتاب انہیں اپنے نور کشفی سے کہتا ہے کہ اے بادل تو کیوں اتنا اونچا ہوتا ہے تو عنقریب قطرہ قطرہ ہو کر بصد انکسار زمین پر گرے گا اور اے غبار تو اس کے ساتھ ہی معدوم ہو جائے گی ۔ سو بخیال تعصبات مذکورہ بالا یہ تو ہم