شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 548

شحنۂِ حق — Page 385

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۷۱ شحنه حق پانسور و پید اپنا قرضہ لے لیں تو انہوں نے جواب بھیجا کہ میرے قرضہ کا آپ کو فکر نہیں کرنا چاہئے آپ اسی روپیہ سے رسالہ سراج منیر کو چھا ہیں ۔ اب تمہیں اے آریو! ذرہ شرمندہ ہونا چاہئے کہ گو ہم نے اسے انبالہ چھاؤنی میں ان مخلص دوستوں کو روپیہ لینے کے لئے کہا مگر انہوں نے وہ جواب دیئے جو او پر لکھے ہیں اور اندرمن اور دیا نند بھی ہا ہم دوست ہی تھے مگر اخیر میں جو کچھ نجاست نکلی وہ ظاہر ہے۔ قوله - جس قدر براہین احمقیہ میں الہامات لکھے ہیں سب انہیں فن و فریب سے ۳۵ بنائے گئے ہیں ۔ اقول - فن و فریب تو دیا نند کا خاصہ ہے جو اسی کے قومی بھائی اندرمن نے ثابت کر کے بھی دکھلا دیا پھر اس کی تعلیم سے تم لوگوں کا خاصہ جو چوری کرنے سے بھی نہ ڈرے اور براہین احمدیہ کا نام براہین احمقیہ کر کے بار بار لکھنا یہ بید بے شمر کی تہذیب ہے۔ ان بیدوں نے بجز گالیوں اور بد زبانیوں کے اور کیا سکھلایا ؟ جابجا اول سے آخر تک یہی شرتیاں ویدوں میں پائی جاتی ہیں کہ اے اندر ایسا کر کہ ہمارے سارے دشمن مرجائیں ان کے بچے مرجائیں اور ہمیشہ کے لئے ان کی دولت ان کا ملک ان کی گوئیں گھوڑے زمین وغیرہ سب ہم کو مل جائے لیکن اندر کی خدائی تو خوب ثابت ہوئی کہ ایک طرف دعا ئیں تو یہ اور دوسری طرف بجائے دشمنوں کے ہلاک ہونے کے آپ ہی ہند ولوگ تباہ ہوتے گئے ۔ چنانچہ مدت دراز سے یہودیوں کی طرح بجز محکومیت اور غلامانہ اطاعت کے