شحنۂِ حق — Page 377
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۶۳ شحنه حق بھی باقی ہیں۔ یہ نقصان اس لئے رہ گیا کہ یونانی خیالات ہندوستان میں اور ہندی خیالات یونان میں بسبب نہ ہونے ذریعہ مثل چھا پہ وغیرہ کے کم پہنچ سکے تمام ہوا کلام دونوں ڈاکٹر صاحبوں کا ۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ یہ نقصان ہندی طبابت میں کیوں رہ گیا۔ ویدوں سے کیوں درست نہ کر لیا گیا۔ اب دیکھنا چاہیے کہ اگر ہم ہندی علوم کو جو آریہ دیس میں ابتدا سے چلے آتے ہیں جن کی اب تاڑ تاڑ غلطیاں نکل رہی ہیں ویدوں کی طرف منسوب بھی کر دیں تو کیا اس سے ویدوں کی عزت ثابت ہوتی ہے یا بے عزتی ۔ قوله - مرزافن و فریب اور دروغ گوئی میں یکتا ہے مکتوب الیہ کو ( یعنی جس کی طرف حساب کرنے کے لئے خط لکھا گیا تھا ) تعلیم دیتا ہے کہ تم نے یہ جھوٹ بولنا اور یوں کرنا اور ووں کرنا ۔ اقول ۔ اس اعتراض کی اصلیت صرف اس قدر ہے کہ انبالہ چھاؤنی میں کئی ایک خط میں نے ایک ہندو دکاندار کی طرف بمراد تصفیہ ایک پرانے بر داشتی حساب کے جس کا یوں ہی مدت تک ملتوی پڑے رہنا قرین مصلحت نہیں تھا لکھے تھے اور اس دکاندار کو بلایا تھا کہ اب حساب دیر کا ہو گیا ہے ۔ تم ٹو نبو ساتھ لاؤ اور جو کچھ حساب نکلتا ہے لے جاؤ اور ٹو نبودے جاؤ ۔ اگر چہ ٹھیک ٹھیک یا د نہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ شاید ان خطوط میں سے کسی خط میں یہ بھی لکھا گیا ہو کہ تم نے حساب کے لئے بلائے جانے کا حال ظاہر نہ ۲۷ کرنا ۔ اب معترض خیانت پیشہ جس نے سرقہ کے طور پر لالہ بشن داس مکتوب الیہ کے صندوق سے خط چورائے ہیں اس اصل حقیقت میں تحریف