شحنۂِ حق — Page 371
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۵۷ شحنه حق قوت نامیہ کا پردہ تو وہ پاتی ہیں اپنی غذا کو جو پانی ہے اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیتی ہیں اور وہ جڑھیں اپنی قوت جاز بہ سے دور دور سے پانی کھینچ لاتی ہیں ۔ غرض حکمت کا ملہ الہیہ سے ہر یک چیز میں تحصیل غذا کے لئے پہلے ہی سے ایک قوت رکھی جاتی ہے خواہ وہ چیز پتھر ہو یا درخت یا انسان یا حیوان در حقیقت یہ سب ایک ہی قوت کی تحریکوں سے حصول غذا کے لئے متوجہ کی جاتی ہیں اور اس بات کے جواب میں کہ کیوں یہ چاروں قسم کی چیز میں غذا کی طالب ہیں کوئی جدا جدا بیان نہیں تا کسی جگہ پہلے جنم کی یادداشت اور اس کا خیال بنا رہنا سمجھا جائے اور کسی جگہ کوئی اور وجہ بتلائی جائے بلکہ در حقیقت ان چاروں چیزوں کا تحصیل غذا کے لئے میل کرنا ایک ہی باعث سے ہے یعنی فطرتی قوت جو وجود پیدا ہونے کے ساتھ ہی اس میں پیدا ہو جاتی ہے اور اسی کی طرف اس پاک اور مقدس کلام میں اشارہ ہے جو فلسفی صداقتوں سے بھرا ہوا ہے جیسا کہ وہ جل شانہ فرماتا ہے اغطى كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ثُمَّ هَلى یعنی تمہارا وہ خدا ہے جس نے ہر یک چیز کو مناسب حال اس کے وجود بخشا پھر غذا وغیرہ کی طلب کے لئے جس پر اس کی بقا موقوف ہے اس کے دل میں آپ خواہش ڈالی ۔ سو یہی صداقت حقہ ہے جس کو ایک قاعدہ کلی کے طور پر اللہ جل شانہ نے اپنی کتاب عزیز میں بیان فرما دیا ہے ۔ نادانوں اور جاہلوں کی نظر محیط نہیں ہوتی اس لئے وہ فقط ایک جزئی کو دیکھ کر اپنی غرض فاسد کے مطابق اس کے لئے ایک جھوٹا منصوبہ گھڑ لیتے ہیں اور دوسرے جزئیات کو جو اسی کے شریک ہیں چھوڑ دیتے ۔ ایسی ہی دیا نندی فلاسفی ہے طه : ۵۱