شحنۂِ حق — Page 369
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۵۵ طبعی تحقیقاتوں کی طرز پر کسی چیز یا عارضہ کا حقیقی سبب ہرگز تلاش نہیں کرتے ۔ شحنه حق یہ قاعدہ کی بات ہے کہ کسی امر مجہول کی واقعی حقیقت دریافت کرنے کے لئے بڑی وسیع تحقیقات کی جاتی ہے ۔ اور ایک جزئی کی خاطر تمام جزئیات پر نظر ڈالنی پڑتی ہے اور محققانہ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ یہ خاص (1) جزئی جس کا کوئی حال یا عارضہ متنازعہ فیہ قرار دیا گیا ہے ۔ کیا اس کی یہ خاصیت جس میں نزاع کی گئی ہے اسی کی ذات تک محدود ہے یا ایک عام بات ہے جو دوسری کئی جزئیات میں یا جمیع جزئیات میں پائی جاتی ہے ۔ پھر اگر کھوج لگاتے لگاتے اس حد تک پہنچ جائیں جو اس جزئی کا اس حال یا عارضہ متنازعہ فیہ میں دوسری جزئیات سے ممتاز ہونا ثابت ہو جائے یا دوسری جزئیات اس کے شریک نکل آئیں یعنی جیسی کہ صورت ہو اس پر عمل کیا جاتا ہے اور ناحق ایک عام کو خاص یا خاص کو عام نہیں بنایا جا تا لیکن اس فلسفیانہ طرز سے دیا نندی پالسی الگ ہی ہے ۔ خیال کرنا چاہیے کہ اس بندہ خدا نے تناسخ کے بارے میں کیا شستہ ثبوت دیا ہے جس کے پیش کرنے کے وقت نہ تو یہ سوچا کہ یہ جو دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضرور نوزاد بچہ اپنی ماں کے پستان کی طرف ہی جاتا ہے نہ کسی اور طرف ۔ یہ دعوئی دراصل صحیح ہے یا غلط اور نہ یہ خیال کیا کہ جیسے میرا دعوئی عام ہے دلیل جو پیش کرتا ہوں وہ بھی عام ہے یا نہیں خیر اگر اس نے نہ سوچا اور نہ سمجھا تو اب ہم ہی دیا نندی منطق کا نمونہ ظاہر کرنے کے لئے اس کی قلعی کھول دیتے ہیں ۔ سو واضح ہو کہ یہ دعویٰ کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسی وقت اپنی ماں کا دودھ پینے لگتا ہے یہ