شحنۂِ حق — Page 366
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۵۲ شحنه حق میشر کو ایک بنیا قرار دیا جائے جو اُس جنس کو داموں کے موافق بیچتا ہے یا یہ خیال کیا جائے کہ پر میشر کا مکتی خانہ کرایہ پر چلتا ہے ۔ جتنے دنوں کا کرایہ دیا اتنے دن رہے اور پھر نکالے گئے۔ اب ہم آریوں کے بڑے دستار بندوں سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا مکتی کی حقیقت میں یہی فلاسفی ہے جس کو آپ کا و ید مقدس سکھا رہا ہے کیا وید کا یہی علم و ہنر ہے جس پر ناز کیا جا تا ہے سب دانشمند جانتے ہیں کہ نجات کی جڑھ اور اس کا اصل نور جس سے یہ روشنی پیدا ہوتی ہے یہی ہے کہ ماسوا اللہ سے انقطاع کلی ہو کر خدا تعالیٰ سے ایسا سچا تعلق پیدا ہو جائے کہ وہ محبت اور عشق کے غلبہ سے ہر یک چیز پر بلکہ اپنی جان پر بھی مقدم ہو جائے اور آرام اور انس اور شوق اور دل کی خوشی اُسی سے اور اُسی 19 کے ساتھ ہو اور جیسا کہ وہ حقیقت میں واحد لا شریک ہے ایسا ہی پیار کی نظر سے بھی اپنی عظمت اور جلال اور ساری کامل صفتوں میں واحد لاشریک ہی نظر آدے یہ نور نجات ہے جو اس دنیا سے محب صادق کے ساتھ جاتا ہے اور اس کے وجود میں جان کی طرح داخل ہو کر ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے سو جب کہ شخص نجات یافتہ ہمیشہ کے لئے یہ علت موجبہ نجات اپنے ساتھ رکھتا ہے تو پھر یہ وید کی کس قسم کی عقلمندی ہے کہ باوجود موجود تیت علت تامہ کے یعنی نور نجات کے معلول تخلف یعنی نجات کا اس سے روا رکھتا ہے کیا کوئی آریہ اپنے ویدوں کی اس عجیب فلاسفی کو ہمیں سمجھا سکتا ہے۔ اور پھر ثبوت تناسخ پر دلیل بھی کیا ہی عمدہ ستیارتھ پرکاش میں لکھی گئی حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” پر میشر ہونا چاہیے۔(ناشر)