شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 548

شحنۂِ حق — Page 365

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۵۱ شحنه حق بیان کیا ہے اسی سے ناظرین بطور نمونہ سمجھ سکتے ہیں کہ آریوں کا وید مقدس کس عالی مرتبہ کی کتاب ہے۔ (۸) چنانچہ منجملہ ان کے ایک مسئلہ دائمی وجوب تناسخ کو ہی دیکھو جس میں ویدک فلاسفی کے رو سے ہمیشہ روحوں کا اسی دنیا میں پھر پھر آنا اور بڑے بڑے عارف گیانی۔ رکھی اور دیو تے بننے کے بعد بھی ہمیشہ کتے بلے کیڑے مکوڑے بنتے رہنا واجب و لازم ہے اس بدبختی کا اصل موجب یہ ہے کہ روحیں معدود اور پرمیشر پیدا کرنے سے عاجز بالکل ناطاقت بلکہ کچھ بھی نہیں پھر اگر وہی مکتی یافتہ بار بار انسان کتا بلا نہ بنتے رہیں تو دنیا کیونکر قائم رہے مگر اس اصل دلیل کو چھپا کر ایک جھوٹی دلیل وید کی طرف سے پیش کی گئی ہے کہ مکتی خانہ میں ہمیشہ رہنے کے لئے انسانوں کے عمل وفا نہیں کر سکتے اور پر میشر اتنا ہی دے سکتا ہے جتنا کہ ان کا حق ہے کم و بیش نہیں بہت خوب۔ ☆ لیکن یہ تقریر اس صورت میں کچھ چسپاں ہو سکتی ہے کہ جب مکتی ( نجات ) کو ایک ایسی شے سمجھا جائے کہ جو نون مرچ کی طرح بکتی ہے ۔ اور یوں تو آریہ لوگ کہتے ہیں کہ تاریخ ضرور بچی ہے اور ایسا ہمیشہ کے لئے واجب الوقوع ہے کہ مکتی کے بعد بھی اس سے پیچھا نہیں چھوڑتا لیکن بوجہ نادانی انہیں خیال نہیں کہ دائی تناسخ کے فٹ نوٹ ماننے سے تمام مقدسوں اور برگزیدوں کی ایسی بے ادبی ہوتی ہے کہ ہر ایک کے لئے قبول کرنا پڑتا ہے کہ وہ بے شمار مرتبہ نجات پانے کے بعد بھی کیڑے مکوڑے بن چکے ہیں اور ابھی آئند ہ بنتے رہنے کا کچھ انتہا نہیں کیونکہ اگر یہ سب حیوانات کتے بلے گدھے سور وغیرہ بے شمار مراتب مکتی کو پا چکے ہیں تو اس بات کے نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں کہ کسی زمانہ میں یہی حیوانات وید کے رشی یا ادوتار وغیرہ بھی ہوں گے تو اس صورت میں تو آریوں کو قائل ہو جانا چاہیے کہ ممکن ہے کہ در حقیقت یہ سب ان کے بزرگ ہی ہوں یا بعض ان میں سے تو ضرور ہی ہوں ۔ واضح رہے کہ ہم ایسے خیال کو نہایت خبیث اور دور از ادب سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی پر ایسا خوش ہو کر کہ اس کو مکتی دے کر پھر کسی وقت اس کو کتا بلا سو روغیرہ بنا دے اس لئے ہم آریوں کو محض نصیحت سے کہتے ہیں کہ اگر تم دوسرے پاک نبیوں کو گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے ہو (19) مگر اے بھلے مانسو تم اپنے وید کے رشیوں کی ایسی بے ادبی سے تو باز آؤ۔ اگر حوالہ کے شائق ہو تو دیکھو لائق پنڈت دیا نند کی ستیارتھ پرکاش اور اواگون کی بحث ۔ منہ