شحنۂِ حق — Page 364
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۵۰ شحنه حق کوئی کیا کہے۔ بھلا جس حالت میں جابجا فریق مخالف کے انکار پر اس کی مسلم الثبوت کتابوں کا فصل وصفحہ تک پتہ بتلا دیا گیا تو کیا ابھی ہم نے کتاب کا حوالہ نہ دیا۔ دیکھو صفحه (۷۳) سرمہ چشم آریہ۔ ہاں جن باتوں کو لالہ مرلی دھر صاحب اس با لمواجہ بحث میں آپ ہی مانتے گئے۔ ان کا حوالہ دینا داب مناظرہ کے خلاف اور ناحق کا طول تھا اگر وہ انکار کرتے تو حوالہ بھی سن لیتے۔ مگر تا ہم اجمالی طور پر ہر جگہ کہا گیا کہ یہ تمہارے عقائد و اصول ہیں۔ چنانچہ جا بجا لالہ صاحب موصوف ان الزامات کا اقرار کرتے گئے اور کچھ بھی چوں چرا نہ کیا۔ دیکھو صفحه ۱۷۹۱۱۴-۱۹۴-۲۰۴-۲۰۶ سرمہ چشم آریہ۔ ماسوا اس کے یہ بات یادر ہے کہ ہم نے جس قدر آریوں پر رسالہ سرمہ چشم آریہ میں اعتراضات کئے ہیں ان سب کو ہم نے ان کے لائق گرود یا نند کی ستیارتھ پرکاش سے اخذ کیا ہے تم ذرا منہ سے تو یہ بات نکال کر دیکھو کہ ہم آریوں کے وہ عقائد نہیں ہیں پھر دیکھنا کہ کیسی خبر لی جاتی ہے غضب کی ہٹ دھرمی ہے کہ جن عقائد اور اصولوں کو آپ ہی ہر کوچہ و بازار میں مشہور کر چکے ہیں اب ان سے ادھر اُدھر بھاگنا چاہتے ہیں مگر پھنسی ہوئی چڑیا اب بھاگے کہاں۔ اب تو دیانند کی جان کو رونا چاہئے جو تمہیں پھنسا کر آپ الگ ہو گیا اور وید کا آخری نچوڑ یہ چھوڑ گیا کہ جیسے پر میشر خود بخو دویسا ہی دنیا کا ذرہ ذرہ خود بخود۔ قوله تمام جہان میں جو علم و ہنر ظاہر ہو رہا ہے سب ویدا قدس کی بدولت ہے۔ اقول - ویدوں کے علوم وفنون کی حقیقت تو بہت سی کھل گئی اور کھلتی جاتی ہے۔ بھلا جن ویدوں نے اس رنگا رنگ کی مخلوقات کے وجود میں اپنی فلاسفی یہ بتلائی کہ یہ سب چیزیں اور سب روحیں یہاں تک کہ ذرہ ذرہ عالم کا اپنے وجود کا آپ ہی ربّ ہے کوئی ان کا موجد و پیدا کننده و حقیقی سہارا نہیں ضروران میں اور علوم فنون بھی ہوں گے ایسے لائق ویدوں کا وجود کب بے ہنر و علم رہ سکتا ہے اگر چہ ویدوں کی عجیب حکمت پر خود ذاتی طور پر ہمیں بہت سی اطلاع ہے لیکن آریوں کے لائق پنڈت دیا نند نے جو ستیارتھ پرکاش میں ویدک فلاسفی کا کچھ