شحنۂِ حق — Page 361
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۴۷ شحنه حق کا گواہ نہیں ہوں حالانکہ ہمارے پوچھنے پر لالہ شرم پت اس تحریر کے شائع کرنے اور ایسے اشتہار کے لکھنے سے سراسر انکاری ہے اور قسم کھا کر کہتا ہے کہ مجھے اس کی اطلاع بھی نہیں بلکہ اس سے پہلے کئی دفعہ ہمارے روبرو اپنی مستعدی ظاہر کر چکا ہے کہ ان الہامی پیش گوئیوں کو جن کا وہ گواہ ہے عام طور پر شائع کرے اور ایک دفعہ لیکھر ام پشاوری قادیاں میں آکر بہت کچھ اس کو بہکا تا رہا کہ شہادت الہامات سے انکار کرنا (۱۵) چاہیے مگر وہ دروغ صریح سے نفرت کر کے اس کے بیچ میں نہ آیا۔ اور اب بھی اگر جلسہ عام میں قسم دے کر اس کو پوچھا جائے تو صفائی سے وہ بیان کرسکتا ہے کہ دیانند کے مرنے کی خبر کئی دن پیش از موت اسے بتلائی گئی تھی اور خاص لالہ شرم پت کے ایک بھائی پر جو ایک پیچدار اور پُر خطر مقدمہ چیف کورٹ میں دائر تھا اس کا انجام بھی پیش گوئی کے طور پر اس پر ظاہر کیا گیا تھا۔ ایسا ہی دلیپ سنگھ کی دوصورتوں میں سے ایک صورت یعنی موت یا بے عزتی اور نا کامی از سفر پنجاب اس کو اس وقت کھول کر سنا دی گئی تھی کہ جب اس مصیبت کا نام و نشان موجود نہ تھا اور ایسی ہی اور بہت قبل از وقوع باتیں اس پر ظاہر کی گئی تھیں جن باتوں کا وہ بڑی مضبوطی سے گواہ ہے مگر تصدیق اس کی جلسہ عام میں قسم کے ساتھ ہونی چاہیے نہ یوں ہی متعصبانہ تحریروں کی رو بہ بازی سے ماسوا اس کے رسالہ سراج منیر بھی جو پیشگوئیوں پر مشتمل ہے اب بہت جلد نکل کر دروغ گوؤں کا منہ کالا کرنے والا ہے۔ قولہ ۔ ہم نے اپنے اشتہار میں ثابت کر دیا ہے کہ مرزا کے اشتہار ۱/۸اپریل ۱۸۸۶ء میں پیشگوئی پسر موعود کا حمل موجودہ پر حصر رکھا گیا ہے جس میں سے آخرلڑ کی پیدا ہوئی۔ اقول - وہ اشتہار جس میں ہماری طرف سے الہامی یا تشریح کے طور پر اس