شحنۂِ حق — Page 357
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۴۳ شحنه حق بنانے میں کچھ کسر بھی رکھی؟ پس اس سے سمجھ لو کہ اگر ہم آپ کے گھر کے بھیدی نہیں تھے تو پھر کیونکر ہم نے وید کے چھپے ہوئے عیبوں کو کھول کر رکھ دیا اور اگر ہم پورے پورے بھیدی نہیں ہیں تو کیونکر ہم نے کئی جزیں ویدوں کی براہین احمدیہ میں نقل کر دیں اور کیونکر سرمہ چشم آریہ میں وہ کاری زخم آپ لوگوں کو پہنچا دیا جس کا ابھی تک کچھ جواب بن نہ آیا ۔ اب چھ مہینے کے بعد جواب نکلا تو یہ نکلا جس میں بجز بد زبانی اور افترا بیانی کے اور خاک بھی نہیں ۔ انتظار کرتے کرتے ہم تھک بھی گئے کہ کونسا لطیف اور مغز دار جواب آتا ہے۔ آخر آپ کے مرتبان میں سے صرف ایک مکھی نکلی کیا جواب دینا اور رد لکھنا اسی کو کہتے ہیں ۔ بھلا کوئی منصف ہندو ہی آپ لوگوں کے رسالہ کو پڑھ کر دیکھے اور پھر حلفاً بیان کرے کہ ہمارے رسالہ سرمہ چشم آریہ کا ایک نقطہ یا شعثہ بھی اس خس و خاشاک سے زوال پذیر ہوا ہے اور اگر کہو کہ تمہیں سنسکرت کی زبان کی واقفیت نہیں تو میں کہتا ہوں کہ جس حالت میں دیا نندی دید بازاروں میں چار چار آنہ کو خراب ہوتے پھرتے ہیں اور آپ کا وید اردو میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے اور ایسا ہی انگریزی میں بھی چھپ گیا اور خود دیانند نے بھی جا بجاوید کے عقائد اور اصول کو کھول کر سنا دیا بلکہ ایک کافی حصہ وید بھاش کا عام فہم عبارت اُردو بھاشا میں چھپ بھی گیا ایسا ہی کئی دوسرے رسالے بھی آریہ مت کے عقائد کے بارے میں صاف صاف طور پر قلمبند ہوکر اردو زبان میں شائع ہو گئے اور زبانی لکچروں میں بھی ان کے لائق ممبروں نے ہر ایک جگہ اپنے اصولوں اور عقیدوں کی اشاعت کی تو کیا اب بھی ہماری واقفیت میں کچھ کسر رہ گئی اور کیا ابھی تک ہم یہی خیال کیا کریں کہ ویدوں کے اصول اور عقائد کی گٹھری کسی برہمن کی اندھیری کوٹھری میں بہت سی خاک کے نیچے دبی پڑی ہے جس تک کسی ڈھب