شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 548

شحنۂِ حق — Page 346

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۳۲ شحنه حق مساجد، مدارس اسلامیہ میں دیکھو صد ہالڑکوں اور لڑکیوں کو پاؤ گے کہ قرآن شریف آگے رکھے ہیں اور باترجمہ پڑھ رہے ہیں یا حفظ کر رہے ہیں اب سچ سچ کہو کہ اس کے مقابل وید کا کیا حال ہے اور خود ایمانا اپنے ہی کانشنس سے پوچھ کر دیکھو کہ وید کی حالت کو اس سے کیا نسبت ہے تو اس سے ہی تم سمجھ سکتے ہو کہ کس کتاب کے شامل حال نصرت الہی ہے اور کونسی کتاب اپنی تعلیموں میں شہرت تام پاچکی ہے یوں تو متعصبوں کا تعصب خدا ہی مٹاوے تو مٹ سکتا ہے لیکن غور کرنے والی طبیعتیں سمجھ سکتی ہیں کہ آج کل آریوں کی کارروائی وید کی نسبت چوروں کی طرح ہو رہی ہے نہ ویدوں کے ترجمے اردو انگریزی میں آپ شائع کریں اور نہ شائع شدہ کو منظور رکھیں ۔ بھلا میں پوچھتا ہوں کہ مثلاً اگر وہ ترجمه رگ وید جو دہلی سوسائٹی نے چھاپا ہے اور لاکھوں آدمیوں میں مشہور ہو چکا ہے صحیح نہیں ہے اور موجب فتنہ ہے تو تین قصور ہیں اول یہ کہ بڑی تحقیق اور دعویٰ سے انہوں نے پرچہ دھرم جیون میں کئی دفعہ یہ مضمون شائع کیا ہے کہ ویدان کم فہم لوگوں کے خیالات ہیں کہ جو حقیقت میں آگ و سورج و پانی وغیرہ کو اپنا پر میشر سمجھتے تھے اور ان کی عقل بھی اسی قدر تھی ۔ دوسرے یہ جرم کہ انہوں نے اپنے اسی پرچہ میں یہ بھی شائع کر دیا کہ ویدوں میں لکھا ہے کہ اگر کسی عورت کے اولاد نہ ہو تو وہ ایک دوسرے شخص سے کہ جو دراصل اس کا خاوند نہیں ہے اولاد حاصل کرنے کے لئے صحبت کر سکتی ہے۔ اس عمل کا نام ویدوں میں نیوگ ہے اور لائق پنڈت دیانند جی اس عمل کے جاری رکھنے کے لئے ستیارتھ پرکاش میں آریوں کو بہت تاکید کرتے ہیں کہ اس طور پر ان کی عورتیں ضرور اولاد حاصل کرتی رہیں بے اولاد نہ رہیں۔ تیسرے یہ قصور کہ انہوں نے اپنے پرچہ دھرم جیون میں بحوالہ پر چہ آریہ در پن وغیرہ اور خود اپنی تحقیق کے رو سے بیان کیا کہ دیانند جی ہندوؤں کے اوتاروں کو بُرا کہتے ہیں باوا نا نک صاحب کا نام فریبی اور مکار اور ٹھگ رکھتے ہیں ۔ مگر خود ان کی ذاتی کر تو تیں ایسی ہیں کہ ان کی تمام زندگی میں دنیا طلبی ہی ان کا اصول رہا جس سے کیا فریب ہی کیا یاں تک کہ ماں اور باپ سے