شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 548

شحنۂِ حق — Page 342

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۲۸ شحنه حق کے درجہ کو پہنچے اور جس کے اظہار جلال کے لئے بیڑا اٹھایا تھا آخر اس کی راہ میں جان دے دی۔ پس جس حالت میں قدیم سے جاہلوں کی یہ عادت چلی آئی ہے کہ جب وہ معقول باتوں سے ملزم اور لاجواب ہو جاتے ہیں تو آخر انہیں یہی تدبیر سوجھتی ہے کہ اس شخص کو ہر قسم کا دکھ اور تکلیف پہنچائیں یا اس کی زندگی کا ہی خاتمہ کر دیں ۔ اس صورت میں ہمیں حضرات آریوں پر جو ہماری نسبت ایسی ہی کاروائیاں کر رہے ہیں کچھ افسوس نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہم ہر ایک قسم کا دکھ اٹھانے کو ہر وقت مستعد ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی وسیلہ سعادت اندوزی کا نہیں ۔ کہ گمراہوں کو عذاب الیم سے چھوڑانے کے لئے اپنے نفس کو مصیبتوں میں ڈالا جائے لیکن اگر ہمیں کچھ افسوس یا تعجب ہے تو بس یہی کہ اگر ہم بقول ان کے بالکل ان کے مذہب سے بے خبر نوٹ جس شخص نے آریوں کی بدزبانی اور سخت کلامی ہماری نسبت سننی ہو وہ لیکھرام پشاوری کی تحریر میں اور تقریر میں سنیں اور ۲۷ / جولائی ۱۸۸۶ء کا اشتہار جو آریوں کی طرف سے مطبع چشمہ نورا مرتسر میں ہماری نسبت چھپا ہے وہ دیکھے اور نیز ایک اشتہار ان کا مسمی بہ بیل نہ کو دا کو دی گون مطالعہ کرے۔ اور نیز وہ رسالہ آریوں کا جس کا عنوان یہ ہے کہ سرمہ چشم آریہ کی حقیقت اور فن فریب غلام احمد کی کیفیت ضرور اس ہمارے رسالہ کے ساتھ دیکھنے کے لائق ہے ۔ اس لیکھر ام پشاوری کا ہر جگہ اور ہر جلسہ میں یہی طریق ہو رہا ہے کہ گند بکنا اور گالیاں دینا اور بہتان لگانا اس نے اپنی کتاب تکذیب براہین احمدیہ میں بہت سی تو ہین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہے اور ایک گندہ نا معقول سے مقدس رسول کی زندگی کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے مگر شکر ہے کہ آریہ در پن کے پر چوں اور اندرمن کے اشتہاروں اور پنڈت شیو رائن صاحب کی پوست کند و تحریروں نے اس مقابلہ کی حاجت نہیں رہنے دی ۔ ۲۷ / جولائی ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں جو آریوں