شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 548

شحنۂِ حق — Page 343

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۲۹ شحنه حق اور اُمی اور جاہل محض اور شہوات میں ڈوبے ہوئے ہیں تو ہماری نسبت اس قد را نکے دلوں کو کیوں دھڑ کا شروع ہو گیا کہ ہمارے قتل کی بھی فکر پڑ گئی کیا جو شخص ایسا نا دان اور نفس امارہ کے بیچوں میں پھنسا ہوا ہے اس کے مارنے کیلئے بھی کوئی جلتا اور دانت پیتا ہے پر سچ تو یہ ہے کہ جس قدر ہم نے ان کے عقائد کی بیخ کنی کی ہے۔ جس قدر ہم نے ان کے ناراست اصولوں کو اپنے پاؤں کے نیچے کچلا ہے۔ جس قدر ہم نے قرآنی صداقتوں کو ان پر ظاہر کیا ہے حقیقت میں یہ ایسی ہی کا رروائی ہے جس سے ایک گرفتار دروغ بے فروغ کو ایسے ایسے خیال اور جوش دل میں پیدا ہونے چاہئیں اور اگر ہم مر گئے یا کسی آریہ کے ہاتھ سے مارے گئے تو اس سے ہمارا نقصان کیا ہے ہماری کامل اور پاک تحریر میں ہمیشہ آریوں کے بد خیالات کا استیصال کرتی رہیں گی اور اگر ایک بھی ان میں سے راہ پر آ گیا تب بھی ہم بقيه حاشیہ کی طرف سے مطبع چشمہ نور میں چھپا ہے ہمیں موت کی بھی دھمکی دی گئی ہے کہ تین سال کے اندر اندر تمہارا خاتمہ ہو جائے گا اور پھر ایک خط جو تین دسمبر ۱۸۸۶ء کو ایک گمنام آریہ بن کر کسی معلوم الحقیقت آریہ صاحب نے بصیغہ بیرنگ روانہ کیا ہے اس میں صاف صاف قتل کر دینے کا اعلان ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ زہر خورانی یا کسی اور تجویز سے بہر حال کچھ اندر ہی اند را تفاق کر لیا گیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط کسی نادان مدرسہ کے لڑکے سے لکھایا گیا ہے جس کا دستخط خراب ہے مگر عبارت ایسے طرز اور ڈھنگ کی ہے جو ۲۷ / جولائی ۱۸۸۶ء کے اشتہار کی عبارت ہے لیکن یادر ہے کہ ہم حق کے اظہار میں ایسے اعلانوں سے ہرگز نہیں ڈرتے۔ (۳) ایک جان کیا اگر ہماری ہزار جان ہو تو یہی خواہش ہے کہ اس راہ میں فدا ہو جائے اور گوہم جانتے ہیں کہ یہ تحریریں کن حضرات کی ہیں اور کن اندرونی اور بیرونی سازشوں اور مشوروں اور باہم خط و کتابت کے بعد کسی قومی امید سے کسی اسی جگہ کے یہودا اسکر یوطی یا بگڑے ہوئے سکھ کی دم دہی سے جاری کئے گئے ہیں مگر ہمیں کچھ ضرور نہیں کہ مجازی حکام کو اس کی اطلاع دیں کیونکہ جو کچھ یہ لوگ