شہادة القرآن — Page 422
انسان کے کسب واختیار پردلالت کرنے والی آیات ۲۳۱ انسان من کل الوجوہ مختار مطلق نہیں ۲۵۰ انسان کا قوٰ ی کے موافق عمل کی توفیق پانا ۲۷۸ انگریز انگریز قوم کے لئے دعا ۴۰ انگریزوں نے نماز ،روزہ اور حج وغیرہ سے منع نہیں کیا ۲۷۴ انگریز اسلامی ملکوں میں بعض مصالح کے لئے اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتے ہیں ۲۷۶ انہوں نے مذہبی آزادی اورامن قائم کیا ۳۷۴،۳۹۱ح اس وقت تلوار کا ایمان معتبر نہیں انگریزوں نے تلوار سے کسی کومذہب میں داخل نہیں کیا ۳۷۴ گورنمنٹ سے جہاد درست ہے یا نہیں ۳۸۰ ڈاکٹر ہنٹر کا دعویٰ کہ مسلمان انگریزوں سے جہا دفرض سمجھتے ہیں ۳۸۸ح مذہبی امور کو رعیت اور گورنمنٹ کے رشتہ سے کوئی علاقہ نہیں ۳۸۰ گورنمنٹ انگریزی سے لڑائی اور جہاد قطعی حرام ہے ۳۸۹ح علوم جدیدوقدیم کاایک چشمہ ہیں ۳۷۹ ان کوخدااقبال‘دولت اورعقل کی طرف کھینچناچاہتاہے ۳۷۹ اونٹ حدیث میں اونٹ کی سواری متروک ہونے کی پیشگوئی ۳۰۸ ایمان کامل ایمان تب نصیب ہوتاہے جب اللہ اپنے وجود سے آپ خبر دے ۴۲ اصول ایمانیہ پہلی نشانی ۱۲۴ مسیح ؑ کی ایمانداروں کی بیان کردہ علامات ۱۵۳ لولے‘لنگڑوں کاچنگے کرناعیسائی ایمان کی علامات ہیں ۲۰۱ ایمان داروں کے تین مراتب ۲۷۶ ۱۔نفسانی جذبات سے مغلوب ۲۔درمیانی حالت کے ۳۔انتہا کمالات ایمانیہ تک پہنچنے والے جھوٹاایمان بدکاریوں کوروک نہیں سکتا۔نقلی وعقلی طورپرقائم رہ سکتاہے ۳۴۴ انسان کاایمان درست نہیں ہوسکتاجب تک اپنے آرام پر بھائی کا آرام مقدم نہ ٹھہراوے ۳۹۵ اللہ کامنشاایمان بالجبرہوتاتو جزیہ‘صلح اورمعاہدات کیوں جائز رکھے جاتے ۲۶۳ ایمان پر رہائی عربوں کے لئے رعایت تھی جو صفات الہیہ کے مخالف نہیں ۲۷۵ واجب القتل اگر اپنی مرضی سے ایمان لاوے تو رہائی پاوے گا ۲۸۷ ب،پ ،ت بادشاہ مسلمان بادشاہوں نے بے اعتدالیاں کرکے ملک کھویا ۳۷۴ جس بادشاہ کے زیر سایہ امن سے رہواس کے شکر گزاراورفرمانبردار بنو ۳۸۱ فاسقوں کی بادشاہت بطور ابتلاء کے ہوتی ہے ۳۳۳ بپتسمہ بپتسمہ پانے میں مسیح کی مراد ۲۶۱ مسیحؑ نے یحییٰ ؑ سے بپتسمہ لیا ۱۸۷ بیعت میری یہ حالت ہے کہ بیعت کرنے والے سے ایساڈرتاہوں جیساکوئی شیرسے ۳۹۸ پادری پادریوں کوبٹالوی کے اشاعۃ السنہ سے مذہبی امورمیں مددپہنچی ۷۲ نبیوں کی کتابوں میں گستاخی سے دخل بے جاکیاہے ۳۱۶ ضلالت کوپھیلانے میں کوششیں انتہاکوپہنچائی ہیں ۳۶۲ لوگ پادریوں کے وساوس سے ہلاک ہوئے ۳۷۴ پیشگوئی پیشگوئیاں کوئی ایسی معمولی بات نہیں جوانسان کے اختیارمیں ہوں ۳۷۵