شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 502

شہادة القرآن — Page 386

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۸۴ پولٹیکل نکتہ چینی کا جواب شهادة القرآن مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔ مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے ( جبکہ ہم قطبی اور شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکتب اُس زمانہ سے آج تک ہم میں اُن میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری رہی ہے اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم اُن کے حالات و خیالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دئیے جانے کے لائق ہے۔ گورنمنٹ انگلشیہ کی مخالفت کا خیال کبھی مؤلف کے آس پاس بھی نہیں پھٹکا۔ وہ کیا اُن کے خاندان میں اس خیال کا کوئی آدمی نہیں ہے بلکہ اُن کے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ نے تو عین زمانہ طوفان بے تمیزی (غدر ۱۸۵۷ء) میں گورنمنٹ کا خیر خواہ جان نثار وفادار ہونا عملاً بھی ثابت کر دکھایا۔ اس غدر میں جبکہ ترموں کے گھاٹ پر متصل گورداسپورہ مفسدین بدطینت نے یورش کی تھی ان کے والد ماجد نے باوجود یکہ وہ بہت بڑے جاگیر دار وسردار نہ تھے اپنی جیب خاص سے پچاس گھوڑے معہ سواران و ساز و سامان طیار کر کے زیر کمان اپنے فرزند دلبند مرزا غلام قادر مرحوم کے گورنمنٹ کی معاونت میں دیئے جس پر گورنمنٹ کی طرف سے ان کی اس خدمت پر شکر یہ ادا ہوا اور کسی قدر انعام بھی ملا۔ علاوہ براں ان خدمات کے لحاظ سے مرزا صاحب مرحوم ( والد مؤلف ) ہمیشہ مورد کرم و لطف گورنمنٹ رہے اور دربار گورنری میں عزت کے ساتھ اُن کو کرسی ملتی رہی اور حکام اعلی ضلع و قسمت ( یعنی صاحبان ڈپٹی کمشنر و کمشنر ) ( چٹھیات خوشنودی مزاج ) جن میں سے کئی چٹھیات اس وقت ہمارے سامنے رکھی ہوئی ہیں وقتا فوقتا ان کو عطا کرتے رہے ہیں۔ ان چٹھیات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بڑے دلی جوش سے لکھی گئی ہیں جو بغیر ایک خاص خیر خواہ اور بچے وفادار کے کسی دوسرے کے لئے تحریر نہیں ہوسکتیں۔ اکثر صاحبان ڈپٹی کمشنر و کمشنر ایام دورہ میں از راه خوش خلقی و محبت و دلجوئی مرزا صاحب کے مکان پر جا کر ملاقات کرتے رہے اور ان کی وفات پر صاحبان کمشنر و فنانشل کمشنر اور صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر