شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 502

شہادة القرآن — Page 382

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۸۰ شهادة القرآن میں تو دلوں کو اندر ہی اندر دے دی ہے بہر حال جبکہ ہمارے نظام بدنی اور امور دنیوی میں خدا تعالیٰ نے اس قوم میں سے ہمارے لئے گورنمنٹ قائم کی اور ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں اس لئے ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے۔ سو ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر یک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے در حقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسری سے وابستہ ہیں اور ایک کے چھوڑنے سے دوسری کا چھوڑنا لازم آجاتا ہے بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں ۔ سو یا در ہے کہ یہ سوال اُن کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے اُس سے جہاد کیسا ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بد کار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو ۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے اگر چہ یہ بیچ ہے کہ ہم یورپ کی قوموں کے ساتھ اختلاف (5) مذہب رکھتے ہیں اور ہم ہرگز خدا تعالیٰ کی نسبت وہ باتیں پسند نہیں رکھتے جو اُنھوں نے پسند کی ہیں لیکن ان مذہبی امور کو رعیت اور گورنمنٹ کے رشتہ سے کچھ علاقہ نہیں ۔