شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 502

شہادة القرآن — Page 374

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۷۲ شهادة القرآن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ مفتری کو جو جھوٹا مرسل بن کر خلق اللہ کو گمراہ کرنا چاہتا ہے بہت جلد پکڑ لیتا ہے تو اس صورت میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہ استدلال صحیح نہیں ہوسکتا کہ اگر آنحضرت نعوذ باللہ مفتری ہوتے تو خدا تعالیٰ ان کو پکڑتا پھر با وجود اس لمبی مہلت اور خدا تعالیٰ کی صد ہا تائیدوں اور صد با نشانوں کے مخالفوں نے بھی اس عاجز پر نزول عذاب کے لئے ہزار ہا دعائیں کیں اور اپنے مباہلہ میں بھی رو رو کر اس عاجز پر عذاب نازل ہونا چاہا مگر بجز رسوائی اور ذلت کے اُن کو کچھ بھی نصیب نہ ہوا اور اللہ جل شانہ جانتا ہے کہ ہم نے کسی مباہلہ میں کسی دشمن پر عذاب نازل ہونا نہیں چاہا اور نہ عبد الحق غزنوی کے لئے جس نے بمقام امرتسر مباہلہ کیا تھا اُس کی موت کے لئے بددعا کی مگر اُس نے بہت کچھ جزع فزع کیا اور ہمارا مدعا مباہلہ سے یہی تھا اور اب تک یہ ہی ہے کہ آسمانی نشانیاں اِس عاجز کی تائید میں عام طور پر ظاہر ہوں اور مخالف مباہل کی ذلت اور رسوائی کے لئے اتنا ہی کافی ہوگا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک مقام میں ہماری فتح ظاہر کرے ۔ غرض یہ تمام صداقت کے نشان ہیں مگر اُس کے لئے جو غور کرے۔ افسوس کہ مجھ سے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے دعوی مسیح موعود ہونے پر دلیل کیا ہے مگر ایسے لوگ نہیں سمجھتے کہ حضرت عیسی کے موعود ہونے پر اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین موعود ہونے پر کیا دلیل تھی۔ کیا یہی نہ تھی کہ بہت سے نشانوں سے خدا تعالیٰ نے اُن کا صادق ہونا ثابت کر دیا اور حضرت مسیح کو گو یہودیوں نے قبول نہ کیا اور آج تک یہی کہتے ہیں کہ وہ مسیح موعود نہ تھا مگر اُن کے معجزات اور نشانوں سے ان کا منجانب اللہ ہونا ثابت (۷۸) ہو گیا ہے ضروری مطالبہ تو صادق اور منجانب اللہ ہونے پر ہوتا ہے اور مثیلیت کا ثبوت حاشیہ ایک صاحب ہدایت اللہ نام جنہوں نے انکار معجزات عیسوی کا الزام اس عاجز کو دے کر ایک رسالہ بھی شائع کیا ہے وہ اپنے زعم میں ہماری کتاب ازالہ اوہام کی بعض عبارتوں سے یہ نکالتے ہیں کہ گویا ہم تعوذ باللہ سرے سے حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات سے منکر ہیں مگر واضح رہے کہ ایسے لوگوں کی