شہادة القرآن — Page 373
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۷۱ شهادة القرآن دعوت اسلام کے اشتہار اور خطوط بھیجے گئے جن کی رسیدیں ابتک موجود ہیں۔ ان اشتہارات میں جن کے شائع کرنے پر قریباً عرصہ دس برس کا گذر چکا ہے یہ بھی لکھا گیا تھا کہ یہ عاجز حضرت مسیح ابن مریم سے ان کے کمالات میں مشابہ ہے اور سوچنے والے کے لئے یہ ایک اور دلیل اس عاجز کی سچائی پر ہے کیونکہ اگر مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ صرف انسان کا منصو بہ ہوتا اور خدا تعالی کی طرف سے الہام نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ مسیح موعود کے دعوی کرنے سے دس برس بلکہ بارہ برس پہلے اُس دعوئی کے مؤید متواتر الہامات اپنی طرف سے شائع کئے جاتے کیونکہ هر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ عادتا انسان میں اتنی پیش بندیوں کی طاقت نہیں کہ جو کام یا دعویٰ ابھی بارہ برس کے بعد ظہور میں آنا ہے پہلے ہی سے اُس کی بنیاد قائم کی جائے اور پھر تعجب پر تعجب یہ کہ خدا تعالیٰ ایسے ظالم مفتری کو اتنی لمبی مہلت بھی دیدے جسے آج تک بارہ برس گذر چکے ہوں اور مفتری ایسا اپنے افتراء میں بیباک ہو جس نے پہلے ہی سے ارادہ کیا ہو جو بارہ برس کے بعد ایسا دعویٰ کرونگا اور اس دعویٰ کی بنیاد بارہ برس پہلے ہی یہ رکھی ہو کہ میں ضرور مثیل مسیح ہوں اور نہ صرف یونہی بلکہ الہام کے حوالہ سے اپنے تئیں مثیل مسیح قرار دیا ہو اور کمالات میں اُس کے مشابہ اپنے تئیں ٹھہرایا ہو اور اُس کے جو ہر ذاتی کا ایک ٹکڑا اپنے تئیں سمجھا ہو اور پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ علانیہ اور واشگاف طور پر بارہ برس پہلے اپنے دعوی سیح ہونے سے اپنی کتاب میں (یعنی براہین احمدیہ میں ) یہ شائع کیا ہو کہ خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسی رکھ دیا ہے اور مجھ کو وعدہ دیا ہے کہ میں تجھے تیری طبعی موت سے ماروں گا اور پھر اپنی طرف تجھے اُٹھا لوں گا اور منکروں کے تمام الزاموں سے تجھے بری کروں گا اور تیرے تابعین کو قیامت تک تیرے دشمنوں پر غالب رکھوں گا اور خدا تعالیٰ اُس کو نہ صرف مہلت بلکہ الہامی نشانوں سے اُس کی مدد بھی کرے اور اُس کے لئے ایک جماعت طیار کر دے حالانکہ وہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ میں مفتری کو مد نہیں دیتا اور وہ جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور اُس کی جماعت متفرق کی جاتی ہے بلکہ سید الرسل کو اُس نے کہا کہ اگر تو ایک ذرہ افترا کرتا تو تیری شاہ رگ کاٹ دی جاتی ۔ پس اگر یہ بات سچ ۷۷ )