شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 502

شہادة القرآن — Page 372

روحانی خزائن جلد ۶ شهادة القرآن کرے۔ اور اگر ہم خط پر نکلیں تو ہم سے بحساب دوسور و پیہ ماہواری ہرجانہ اپنے ایک برس کا لے لے ورنہ ہم اُس سے کچھ نہیں مانگتے صرف دین اسلام قبول کرے اور اگر چاہے تو اپنی تسلی کے لئے وہ روپیہ کسی بینک میں جمع کرالے لیکن کسی نے اس طرف رخ نہ کیا۔ اب ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی نصرت پر ایسا کامل یقین نہ رکھتا کہ جو متواتر مشاہدات اور ذاتی تجارب کے بعد ہوتا ہے تو کیونکر ممکن ہوتا کہ اسلام کے تمام مخالفوں کے مقابل پر یعنی اُن لوگوں کے مقابل پر جو روئے زمین پر نامی مخالف مذہب اور اپنی قوموں کے مقتدی تھے اکیلا کھڑا ہو جاتا ظاہر ہے کہ ضعیف البنیان انسان اپنے نفس میں ہرگز ایسی طاقت نہیں رکھتا کہ سارے جہان کا مقابلہ کر سکے پھر بیز اپنے کامل یقین اور ذاتی تجارب کے اور کیا چیز تھی جس نے اس پیش قدمی کے لئے اس عاجز کو جرات بخشی اور نہ صرف زبانی بلکہ دو ہزار روپیہ کے قریب ان اشتہارات کے طبع میں جو انگریزی اور اُردو میں چھاپے گئے تھے اور ایسا ہی اُن کی روانگی میں جو ہندوستان اور یورپ کے ملکوں کی طرف رجسٹری کرا کر خط بھیجے جاتے تھے خرچ ہوا مگر کسی کو جرات نہ ہوئی کہ مقابل پر آوے اور دشمنوں کے دلوں پر ہیبت پڑنا یہ بھی ایک نشان تھا۔ امتحان کے طور پر اس زمانہ کے کسی پادری صاحب وغیرہ کو پوچھ کر دیکھو کہ کیا دعوت اسلام کے لئے رجسٹری شدہ خط اُن کے پاس نہیں پہنچا۔ پھر سوچ لو کہ جو شخص کئی ہزار روپیہ صرف اشتہارات کے طبع اور اُن کے مصارف روانگی میں خرچ کرے اور دشمن کے لئے ایک رقم کثیر بطور انعام بصورت فتح دشمن مقرر کرے کیا عند العقل ایسے شخص کا صرف جھوٹ اور کذب اور افتراء پر مدار ہو سکتا ہے کیا آج تک دنیا میں کوئی ایسا مفتری کتابوں میں پڑھا گیا یا سنا گیا یا دیکھا گیا بھلا کوئی نظیر تو دو ۔ عزیز و! یقینا سمجھو کہ جب تک خدا کسی کے ساتھ نہ ہو یہ استقامت اور یہ شجاعت اور یہ بذل مال ہرگز وقوع میں آہی نہیں سکتے کبھی کسی نے اس زمانہ کے کسی مولوی کو دیکھا یا سنا کہ اُس نے دعوتِ اسلام 1 کے لئے کسی اسٹنٹ کمشنر انگریز کی طرف ہی کوئی خط بھیجا لیکن اس جگہ نہ صرف اس قدر بلکہ پارلیمنٹ لنڈن اور شاہزادہ ولی عہد ملکہ معظمہ اور شہزادہ بسمارک کی خدمت میں بھی