شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 502

شہادة القرآن — Page 369

۳۶۷ شهادة القرآن روحانی خزائن جلد ۶ خدا تعالیٰ اپنی خاص مردوں سے اِس عاجز کی سچائی کو ظاہر کر دے گا اور اپنے خاص نشانوں سے دنیا پر روشن کر دے گا کہ یہ عاجز اُس کی طرف سے ہے نہ اپنے منصوبوں سے۔ پھر جس حالت میں ﴿۲﴾ آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے اپنے دعوے میں صادق ہونا ثابت ہو جائے تو پھر بعد اس کے کوئی وجہ انکار باقی نہیں رہ سکتی کیونکہ آسمانی نشان وہ چیز ہے جس سے بڑی بڑی نبوتیں ثابت ہوگئی ہیں رسالتیں ثابت ہو گئیں ہیں کتابوں کا خدا تعالیٰ کا کلام ہونا ثابت ہو گیا ہے۔ پھر ان کے ذریعہ سے مثیل مسیح ہونا کیوں ثابت نہ ہو سکے غرض خدا تعالیٰ جس طور سے اپنے صادق بندوں کی صداقت ثابت کرتا آیا ہے اُسی طور سے اس عاجز کی صداقت بھی ثابت کرے گا۔ دیکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کے ماننے کے بارے میں کس قدر مشکلات یہودیوں کو پیش آگئی تھیں پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ عیسی بادشاہ ہو کر آئے گا مگر مسیح ایک غریب مسکین کی صورت میں پیدا ہوا پہلی کتابوں میں درج تھا کہ اُس کے آنے سے یہودیوں کے ایام اقبال پھر عود کر یں گے۔ اور یہودی اس خیال میں لگے ہوئے تھے کہ وہ سلطنت رومیہ کے ساتھ لڑے گا اور اسرائیل کی بادشاہت کو پھر قائم کرے گا مگر معاملہ برعکس ہوا اور یہودی اور بھی مصیبت اور ذلت میں پڑے۔ ایسا ہی پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ وہ نہیں آئے گا جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آلیوے اس لئے یہودی منتظر تھے کہ ایلیا کب آسمان سے نازل ہوتا ہے لیکن ایلیا نازل نہ ہوا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے دعویٰ کر دیا کہ مسیح موعود میں ہی ہوں اور یہ بھی کہا کہ بیٹی نبی ہی ایلیا ہے مگر یہ تاویل یہودیوں کی نظر میں پسندیدہ نہ تھی بلکہ وہ اسی طرح حضرت ایلیا کے نزول کے منتظر تھے جیسا کہ آجکل حضرت عیسی کے نزول کے مسلمان منتظر ہیں لیکن باوجود ان سب روکوں کے جو در حقیقت سخت روکیں تھیں خدا تعالیٰ نے اپنے بچے نبی کو ضائع نہ کیا اور بہت سے نشانوں سے ثابت کر دیا کہ وہ صادق ہے جس سے بالضرورت نتیجہ نکالنا پڑا کہ مسیح موعود وہی ہے جو آخر سچا مانا گیا۔ سوعزیز و یقینا سمجھو کہ صادق کی صداقت ظاہر کرنے کیلئے خدا تعالی کے قدیم قانون میں ایک ہی