شہادة القرآن — Page 370
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۶۸ شهادة القرآن ۷۳) راہ ہے اور وہ یہ کہ آسمانی نشانوں سے ایسا ثابت کر دیوے کہ خدا تعالیٰ اس کے ساتھ ہے اور وہ خدا تعالی کا مقبول ہے۔ اب سوچو کہ اس عاجز کی طرف سے مسیح موعود ہونے کا دعوی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کے دعوے سے کچھ بڑا نہیں ہے پھر ذرا غور کر لو کہ یہ تمام بزرگوار نبی کیونکر دنیا میں تسلیم کئے گئے کیا بذریعہ آسمانی برکات اور تائیدات کے یا کوئی اور طریق تھا سو سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی قدیم سنت میں تغییر و تبدیل نہیں اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے اور صرف افترا اور جعلسازی ہے تو انجام بہتر نہیں ہوگا اور خدا تعالیٰ ذلت کے ساتھ ہلاک کرے گا اور پھر ابدالد ہر تک لعن طعن کا نشانہ بنائے رکھے گا کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں کہ ایک شخص کہے کہ میں منجانب اللہ بھیجا گیا ہوں اور دراصل نہیں بھیجا گیا اور کہے کہ میں خدا تعالیٰ کے مکالمہ سے مشرف ہوں اور اس کا کلام میرے دل پر اترتا ہے اور میری زبان پر جاری ہوتا ہے حالانکہ نہ کبھی اس سے خدا تعالیٰ کا مکالمہ واقع ہوا اور نہ کبھی خدا تعالیٰ کا کلام اُس کے دل پر اترا اور نہ کبھی اُس کی زبان پر جاری ہوا ۔ الا لعنة اللہ علی الکاذبین ا الذين يفترون على الله وهم في الدنيا والأخرة من المخذولين لیکن اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اُس نے مجھ کو بھیجا ہے اور اسی کی طرف سے وہ کلام ہے جس کا مجھ کو الہام ہوتا ہے تو میں ہرگز ضائع نہ کیا جاؤں گا اور میں ہلاک نہیں ہوں گا بلکہ خدا تعالیٰ اُسے ہلاک کرے گا جو میرے مقابل پر اُٹھے گا اور میرا سد راہ ہو گا۔ میں متعجب ہوں کہ لوگ مسیح موعود کے لفظ کو کیوں عجیب سمجھتے ہیں اور اس کا ثبوت کیوں مجھ سے مانگتے ہیں حالانکہ عند العقل یہ بات ممتعات میں سے نہیں ہے کہ مسیح کی طرز پر اس اُمت میں بھی جو مثیل اُمت موسیٰ ہے کوئی پیدا ہو یہ بات فلاسفروں کے نزدیک بھی مسلم ہے کہ وجود بنی آدم دوری ہے اور یہی سنت اللہ اور قانون قدرت ثابت ہوا ہے کہ اس دنیا (۷۴) میں بعض بعض کے شبیہ پیدا ہو جاتے ہیں نیکوں کے شبیہ بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں اور بدوں کے بھی ۔ ہاں منجانب اللہ ہونے کا ثبوت مانگنا چاہیے ، اُس ثبوت کے ذیل میں تمام ثبوت