شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 502

شہادة القرآن — Page 359

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۵۷ شهادة القرآن اور حقیقی تقوی اور دیانت اور قومی ہمدردی اور اتفاق اور کچی خدا ترسی سے وہ بکلی دور جا پڑے تھے اور ان کے علم اور فکر کا مبلغ صرف ظاہری لفاظی اور الفاظ پر ستی تک محدود ہو گیا تھا اور نیز اپنی دنیوی حالت میں کمزور اور ذلیل ہو گئے تھے ایسا ہی اُس نبی کے ہمرنگ اور اس زمانہ کے مشابہ ایک محدث اس امت میں بھی ایسے وقت میں پیدا ہونا ضروری ہے کہ جب یہ امت بھی اسی طور پر بگڑ جائے کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودی بگڑے ہوئے تھے اور جب غور سے دیکھا جاتا اور بنظر تحقیق سوچا جاتا ہے تو صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کا اس امت میں بھی کوئی مثیل بوجہ مماثلت تامہ کاملہ سلسلہ خلفاء موسوی و خلفاء محمدی میں پیدا ہونا چاہیے یہی زمانہ ہے جس میں ہم ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح کا قریباً چودہ سو برس کا فاصلہ تھا اور اب بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت تک چودھویں صدی ہے اور حضرت موسیٰ کی امت چودھویں صدی پر آ کر ایسی بگڑ گئی تھی کہ تقویٰ اور دیانت بالکل جاتی رہی تھی اور علماء یہود نا حق کے اختلافات اور نفسانی جھگڑوں میں مصروف تھے اور ان میں بہت کچھ فسق و فجور پھیل گیا تھا اور ان کی دنیوی حالت میں بھی بہت ابتری پیدا ہو گئی تھی ایسا ہی اس زمانہ میں اس امت کا حال ہے اور جو واقعات آنکھوں (۱۲) کے سامنے ہیں وہ صاف شہادت دے رہے ہیں کہ در حقیقت اس امت اور اس امت کے علماء نے اس زمانہ کے یہودیوں کے قدموں پر قدم مارا ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے اور نہ صرف اسی بات میں وہ اس وقت کے یہودیوں کے مشابہ ہو گئے ہیں کہ دیانت اور تقوی اور روحانیت اور حقیقت شناسی اُن میں باقی نہیں رہی بلکہ دنیوی ادبار بھی ویسا ہی شامل حال ہو گیا ہے کہ جیسا اس زمانہ میں تھا اور جیسا کہ اس وقت یہود یہ ریاستوں کو رومی ملوک نے تباہ کر دیا تھا اور ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الله وَ الْمَسْكَنَةُ کا مصداق ہو گئے تھے اور یہودی اپنے تئیں ضعیف اور بے کس دیکھ کر ایک ایسے مسیح کے منتظر تھے جو بادشاہ ہو کر آوے اور رومیوں پر تلوار چلا دے کیونکہ توریت کے آخر میں یہی وعدہ دیا گیا تھا البقرة : ٦٢