شہادة القرآن — Page 358
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۵۶ شهادة القرآن مذہب کو موسوی مذہب کی روحانی شوکت اور جلال سے نسبت ہی کیا ہے جس میں ہزار ہا روحانی خلیفے چودہ سو برس تک پیدا ہوتے رہے اور افسوس کہ ہمارے معترض ذرہ نہیں سوچتے کہ اس صورت میں اسلام اپنی روحانیت کے لحاظ سے بہت ہی ادنی ٹھہرتا ہے اور نبی متبوع صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ کچھ بہت بڑا نبی ثابت نہیں ہوتا اور قرآن بھی کوئی ایسی کتاب ثابت نہیں ہوتی جو اپنی نورانیت میں قومی الاثر ہو پھر یہ کہنا کہ یہ امت خیر الامم ہے اور دوسری امتوں کے لئے ہمیشہ روحانی فائدہ پہنچانے والی ہے اور یہ قرآن سب الہی کتابوں کی نسبت اپنے کمالات اور تاثیر وغیرہ میں اکمل واتم ہے اور یہ رسول تمام رسولوں سے اپنی قوت قدسیہ اور تکمیل خلق میں اکمل واتم ہے کیسا بے ہودہ اور بے معنی اور بے ثبوت دعوئی ٹھہرے گا اور پھر یہ ایک بڑا فساد لازم آئے گا کہ قرآن کی تعلیمات کا وہ حصہ جو انسان کو روحانی انوار اور کمالات میں مشابہ انبیاء بنانا چاہتا ہے ہمیشہ کے لئے منسوخ خیال کیا جائے گا کیونکہ جب کہ امت میں یہ استعداد ہی نہیں پائی جاتی کہ خلافت کے کمالات باطنی اپنے اندر پیدا کریں تو ایسی تعلیم جو اس مرتبہ کے حاصل کرنے کے لئے تاکید کر رہی ہے محض لا حاصل ہوگی۔ در حقیقت فقط ایسے سوال سے ہی کہ کیا اسلام اب ہمیشہ کے لئے ایک مذہب مردہ ہے جس میں ایسے لوگ پیدا نہیں ہوتے جن کی کرامات معجزات کے قائم مقام اور جن کے الہامات وحی کے قائم مقام ہوں بدن کانپ اٹھتا ہے چہ جائیکہ کسی مسلمان کا نعوذ باللہ ایسا عقیدہ بھی ہو خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت کرے جوان ملحدانہ خیالات میں اسیر ہیں۔ اب جب کہ قرآن شریف کی رو سے یہی ثابت ہوا کہ اس امت مرحومہ میں سلسلہ خلافت دائمی کا اسی طور پر اور اسی کی مانند قائم کیا گیا ہے جو حضرت موسیٰ کی شریعت میں قائم کیا گیا تھا اور صرف اس قدر لفظی فرق رہا کہ اُس وقت تائید دین عیسوی کے لئے نبی آتے تھے اور اب محدث آتے ہیں تو اس ثبوت کو اس بات کا مان لینا مستلزم ہے کہ جیسے حضرت موسیٰ کی شریعت کے آخری زمانہ میں ایک نبی جس کا نام عیسی تھا ایسے وقت میں آیا کہ جب یہودیوں کی اخلاقی حالت بکلی بگڑ گئی تھی حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' موسوی “ہونا چاہیے۔(ناشر)