شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 502

شہادة القرآن — Page 357

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۵۵ شهادة القرآن حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہیں زیادہ تھا چنانچہ اس نے خود فر ما یاؤ كَانَ فَضْلُ اللهِ عَنَيْكَ عَظِيمًا اور ایسا ہی اس امت کی نسبت فرمایا كنتم خير أمة الخرجَتْ لِلنَّاسِ " تو پھر کیونکر ہو سکتا تھا کہ حضرت موسیٰ کے خلیفوں کا چودہ سو برس تک سلسلہ ممتد ہو اور اس جگہ صرف تمہیں برس تک خلافت کا خاتمہ ہو جاوے اور نیز جب کہ یہ امت خلافت کے انوار روحانی سے ہمیشہ کے لئے خالی ہے تو پھر آیت اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے کیا معنی ہیں کوئی بیان تو کرے ۔ مثل مشہور ہے کہ اوخویشتن گم است کرار ہبری کند ۔ جب کہ اس امت کو ہمیشہ کے لئے اندھا رکھنا ہی منظور ہے اور اس مذہب کو مردہ رکھنا ہی مد نظر ہے تو پھر یہ کہنا کہ تم سب سے بہتر ہو اور لوگوں کی بھلائی اور رہنمائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو کیا معنی رکھتا ہے۔ کیا اندھا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے سواے لوگو جو مسلمان کہلاتے ہو برائے خدا سوچو کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہمیشہ قیامت تک تم میں روحانی زندگی اور باطنی بینائی رہے گی اور غیر مذہب والے تم سے روشنی حاصل کریں گے اور یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں پھر کیونکر کہتے ہو کہ خلافت صرف تمہیں برس تک ہو کر پھر زاویہ عدم میں مخفی ہوگئی ۔ اتقو الله اتقوا الله اتقوا الله۔ اب یادر ہے کہ اگر چہ قرآن کریم میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ایسی ہیں کہ جو اس امت (۲۰) میں خلافت دائمی کی بشارت دیتی ہیں اور احادیث بھی اس بارے میں بہت سی بھری پڑی ہیں لیکن بالفعل اس قدر لکھنا ان لوگوں کے لئے کافی ہے جو حقائق ثابت شدہ کو دولت عظمی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور اسلام کی نسبت اس سے بڑھ کر اور کوئی بداند بیشی نہیں کہ اس کو مردہ مذہب خیال کیا جائے اور اس کی برکات کو صرف قرن اول تک محدود رکھا جاوے۔ کیا وہ کتاب جو ہمیشہ کی سعادتوں کا دروازہ کھولتی ہے وہ ایسی پست ہمتی کا سبق دیتی ہے کہ کوئی برکت اور خلافت آگے نہیں بلکہ سب کچھ پیچھے رہ گیا ہے۔ نبی تو اس امت میں آنے کو رہے اب اگر خلفاء نبی بھی نہ آویں اور وقتا فوقتا روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے اور پھر ایسے النساء : ۱۱۴ ال عمران: ااا