شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 502

شہادة القرآن — Page 333

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۳۱ شهادة القرآن ماسو اس کے منکم کے لفظ سے یہ استدلال پیدا کرنا کہ چونکہ خطاب صحابہ سے ہے اس لئے یہ خلافت صحا بہ تک ہی محدود ہے عجیب عقلمندی ہے اگر اسی طرح قرآن کی تفسیر ہو تو پھر یہودیوں سے بھی آگے بڑھ کر قدم رکھنا ہے۔ اب واضح ہو کہ منکم کا لفظ قرآن کریم میں قریباً بیاسی جگہ آیا ہے اور بجز دو یا تین جگہ کے جہاں کوئی خاص قرینہ قائم کیا گیا ہے باقی تمام مواضع میں منکم کے خطاب سے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے۔ اب نمونہ کے طور پر چند وہ آیتیں ہم لکھتے ہیں جن میں منکم کا لفظ پایا جاتا ہے۔ (1) فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ یعنی جو تم میں سے مریض یا سفر پر ہو تو اتنے ہی روزے اور رکھ لے۔ اب سوچو کہ کیا یہ حکم صحابہ سے ہی خاص تھایا اس میں اور بھی مسلمان جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے شامل ہیں ایسا ہی نیچے کی آیتوں پر بھی غور کرو۔ (۲) ذلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ یعنی یہ اُس کو وعظ کیا جاتا ہے جو تم میں سے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ (۳) وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا سکے یعنی تم میں سے جو جو روئیں چھوڑ کر فوت ہو جا ئیں۔ (۴) وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ سے یعنی تم میں سے ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو نیکی کی دعوت کریں اور امر معروف اور نہی منکر اپنا طریق رکھیں ۔ (۵) أَنْ لَا أَضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ او انٹی میں تم میں سے کسی عامل کا عمل ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ مرد ہو خواہ عورت ہو۔ (1) لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ نا جائز طور پر ایک دوسرے کے مال مت کھاؤ مگر باہم رضامندی کی تجارت سے۔ (۷) وَإِنْ كُنْتُمْ مَّرْضَى أَوْ عَلى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَابِط أو لمستُمُ النِّسَاء فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيْبًا یعنی اگر تم مریض ہو یا سفر پر یا پاخانہ سے البقرة : ۱۸۵ البقرة : ٢٣٣ البقرة : ۲۳۵ ۲ آل عمران : ۱۰۵ ۵ ال عمران : ۱۹۶ النساء : ٣٠ ك المائدة :