شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 502

شہادة القرآن — Page 332

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۳۰ شهادة القرآن تناسخ کے اُن کی روحیں پھر آجانا طریق معقول کے برخلاف ہے تو حضرت مسیح کی نسبت کیونکر دوبارہ دنیا میں آنا تجویز کیا جاتا ہے جن کی وفات پر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِ بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے کیا یہودیوں کی روحوں کا دوبارہ دنیا میں آنا خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید اور نیز طریق معقول کے برخلاف لیکن حضرت عیسی کا بجسده العنصری پھر زمین پر آجانا بہت معقول ہے ۔ پھر اگر نصوص بینہ صریحہ قرآنیہ کو بباعث استبعاد ظاہری معنوں کے موول کر کے طریق صرف عن الظاہر اختیار کیا جاتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ نصوص احادیثیہ کا صرف عن الظا ہر جائز نہیں کیا احادیث کی قرآن کریم سے کوئی اعلیٰ شان ہے کہ تا ہمیشہ احادیث کے بیان کو کو کیسا ہی بعید از عقل ہو ظا ہر الفاظ پر قبول کیا جائے اور قرآن میں تاویلات بھی کی جائیں ۔ پھر ہم اصل کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ بعض صاحب آیت وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ امَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ کی عمومیت سے انکار کر کے کہتے ہیں کہ منگم سے صحابہ ہی مراد ہیں اور خلافت راشدہ حقہ انہیں کے زمانہ تک ختم ہوگئی اور پھر قیامت تک اسلام میں اس خلافت کا نام ونشان نہیں ہوگا ۔ گویا ایک خوا ب و خیال کی طرح اس خلافت کا صرف تمیں ” برس ہی دور تھا اور پھر ہمیشہ کیلئے اسلام ایک لا زوال نحوست میں پڑ گیا مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا کسی نیک دل انسان کی ایسی رائے ہو سکتی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو یہ اعتقاد رکھے کہ بلاشبہ ان کی شریعت کی برکت اور خلافت راشدہ کا زمانہ برابر چودہ سو برس تک رہا لیکن وہ نبی جو افضل الرسل اور خیر الانبیاء کہلاتا ہے۔ اور جس کی شریعت کا دامن قیامت تک ممتد ہے اس کی برکات گویا اس کے زمانہ تک ہی محدود رہیں اور خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ کچھ بہت مدت تک اس کی برکات کے نمونے اس کے روحانی (۳۵) خلیفوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوں ایسی باتوں کو سن کر تو ہمارا بدن کانپ جاتا ہے مگر افسوس کہ وہ لوگ بھی مسلمان ہی کہلاتے ہیں کہ جو سراسر چالا کی اور بیبا کی کی راہ سے ایسے بے ادبانہ الفاظ منہ پر لے آتے ہیں کہ گویا اسلام کی برکات آگے نہیں بلکہ مدت ہوئی کہ اُن کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ المائدة : ۱۱۸ ۲ النور: ۵۶