شہادة القرآن — Page 323
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۲۱ شهادة القرآن چھٹی علامت نہروں کا نکلنا اور پھر ساتویں علامت زمین کی آبادی اور کا شیکاری زیادہ ہو جانا اور پھر آٹھویں علامت پہاڑوں کا اُڑایا جانا اور پھر نویں علامت تمام علوم و فنون جدیده کی ترقی ہونا۔ پھر دسویں علامت گناہ اور تاریکی کا پھیلنا اور دنیا سے تقویٰ اور طہارت اور ایمانی نور اُٹھ جانا پھر گیارھویں علامت دابتہ الارض کا ظہور میں آنا یعنی ایسے واعظوں کا بکثرت ہو جانا جن میں آسمانی نور ایک ذرہ بھی نہیں اور صرف وہ زمین کے کیڑے ہیں اعمال اُن کے دجال کے ساتھ ہیں اور زبانیں ان کی اسلام کے ساتھ یعنی عملی طور پر وہ دجال کے خادم اور ممسوخ الصورت اور حیوانی شکل ظاہر کر رہے ہیں مگر زبانیں اُن کی انسان کی سی ہیں۔ پھر بارھویں علامت مسیح موعود کا پیدا ہونا ہے جس کو کلام الہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کیا گیا ہے ۔ اور فتح حقیقت میں دو قسم پر ہے ایک نفخ اضلال اور ایک فتح ہدایت جیسا کہ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے ۔ وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَام يَنْظُرُونَ یہ آیتیں زوالوجوہ ہیں قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور اس عالم سے بھی۔ جیسا کہ آیت اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۔ اور جیسا کہ آیت فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا " اور اس عالم کے لحاظ سے ان آیتوں کے یہ معنی ہیں کہ آخری دنوں میں دوزمانے آئیں گے۔ ایک ضلالت کا زمانہ اور اس زمانہ میں ہر ایک زمینی اور آسمانی یعنی شقی (۲۶) اور سعید پر غفلت سی طاری ہو گی مگر جس کو خدا محفوظ رکھے اور پھر دوسرا زمانہ ہدایت کا آئے گا۔ پس ناگاہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھتے ہوں گے یعنی غفلت دور ہو جائے گی اور دلوں میں معرفت داخل ہو جائے گی اور شقی اپنی شقاوت پر متنبہ ہوجائیں گے گو ایمان نہ لاویں۔ اور علاوہ ان آیات کے قرآن مجید میں اور بھی بہت سی آیات ہیں جو اس آخری زمانہ اور مسیح موعود کے آنے پر دلالت کرتی ہیں لیکن ان معانی مبارکہ کے ماخذ دقیق ہیں۔ اس لئے ہر یک سطحی خیال کا آدمی اس طرف توجہ نہیں کرسکتا اور موٹی سمجھ ان دقائق کو پانہیں سکتی چنانچہ الزمر : ٢٩ الحديد: ۱۸ الرعد: ١٨