شہادة القرآن — Page 321
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۱۹ شهادة القرآن جاویگا یعنی سخت ظلمت جہالت اور معصیت کی دنیا پر طاری ہو جائے گی وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَت اور جس وقت تارے گدلے ہو جاویں گے یعنی علماء کا نو ر ا خلاص جاتا رہے گا وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتشرت اور جس وقت تارے جھڑ جاویں گے یعنی ربانی علما ء فوت ہو جائیں گے کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ زمین پر تارے گریں اور پھر زمین پر لوگ آبادرہ سکیں ۔ یادر ہے کہ مسیح موعود کے آنے کے لئے اسی قسم کی پیشگوئی انجیل میں بھی ہے کہ وہ اس وقت آئے گا کہ جب زمین پر تارے گر جائیں گے اور سورج اور چاند کا نور جاتا رہے گا۔ اور اِن پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرنا اس قدر خلاف قیاس ہے کہ کوئی دانا ہرگز یہ تجویز نہیں کرے گا کہ در حقیقت سورج کی روشنی جاتی رہے اور ستارے تمام زمین پر گر پڑیں اور پھر زمین بدستور آدمیوں سے آباد ہو اور اس حالت میں مسیح موعود آوے۔ اور پھر فرمایا اِذَا السَّمَاءُ انْتَقَتْ = جس وقت آسمان پھٹ جاوے۔ ایسا ہی فرمایا۔ اِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ " اور انجیل میں بھی اسی کے مطابق مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے مگر ان آیتوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ در حقیقت اُس وقت آسمان پھٹ جائے گا یا اُس کی قوتیں سُست ہو جائیں گی بلکہ مدعا یہ ہے کہ جیسے پھٹی ہوئی چیز بے کار ہو جاتی ہے ایسا ہی آسمان بھی بے کا رسا ہوگا ۔ آسمان سے فیوض نازل نہیں ہوں گے اور دنیا ظلمت اور تاریکی سے بھر جائے گی۔ اور پھر ایک جگہ فرمایا وإِذَا الرُّسُلُ أَتَتْ اور جب رسول وقت مقرر پر لائے جائیں گے یہ اشارہ در حقیقت مسیح (۲۳) موعود کے آنے کی طرف ہے اور اس بات کا بیان مقصود ہے کہ وہ عین وقت پر آئے گا اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد پر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر رسول پر بھی اطلاق پاتا ہے اور یہ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ اکثر قرآن کریم کی آیات کئی وجوہ کی جامع ہیں جیسا کہ یہ احادیث سے ثابت ہے کہ قرآن کے لئے ظہر بھی ہے اور بطن بھی۔ پس اگر رسول قیامت کے میدان میں بھی شہادت کیلئے جمع ہوں تو امنا و صدقنا لیکن اس مقام میں جو آخری زمانہ کی ابتر علامات بیان فرما کر پھر اخیر پر یہ بھی فرمادیا کہ اس وقت رسول وقت مقرر پر لائے جائیں گے۔ تو قرائن بینہ صاف طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس ظلمت کے کمال کے بعد خدا تعالیٰ کسی ا۔ التكوير : ٣ ٢ الانفطار ۳ ۳ الانشقاق: ۲ الانفطار : ٢ المرسلت : ۱۲ اپنے