شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 502

شہادة القرآن — Page 311

۳۰۹ شهادة القرآن روحانی خزائن جلد ۶ پس اس سے زیادہ تر صاف اور منکشف اور کیا پیشگوئی ہوگی چنانچہ اس زمانہ کی قرآن شریف نے بھی خبر دی ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَإِذَا الْعِشَارُ عُظِلت - یعنی آخری زمانہ وہ ہے کہ جب اونٹنی بے کار ہو جائے گی یہ بھی صریح ریل کی طرف اشارہ ہے اور وہ حدیث اور یہ آیت ایک ہی خبر دے رہی ہیں اور چونکہ حدیث میں صریح مسیح موعود کے بارے میں یہ بیان ہے اس سے یقیناً یہ استدلال کرنا چاہیے کہ یہ آیت بھی مسیح موعود کے زمانہ کا حال بتلا رہی ہے اور اجمالاً مسیح موعود کی طرف اشارہ کرتی ہے پھر لوگ باوجود ان آیات بینات کے جو آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں ان پیشگوئیوں کی نسبت شک کرتے ہیں اب منصفین سوچ لیں کہ ایسی پیشگوئیوں کی نسبت (۱۴) جن کی غیبی با تیں پوری ہوتی آنکھ سے دیکھی گئیں شک کرنا اگر حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ اس قدر جو میں نے احادیث کی رو سے مسیح موعود کی پیشگوئی کے بارے میں لکھا ہے میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایسے شخص کے تسلی یاب ہونے کے لئے کافی ہے جو صداقت کو پا کر پھر نا حق کی مخالفت کرنا نہیں چاہتا۔ اور میں نے اس جگہ اصل الفاظ احادیث کو نقل نہیں کیا اور نہ تمام احادیث کے خلاصہ کو لکھا ہے کیونکہ یہ حدیثیں ایسی مشہور اور زبان زد خلائق ہیں کہ دیہات کے چھوٹے چھوٹے طالب العلم بھی ان کو جانتے ہیں اور اگر میں تمام احادیث کو جو اس بات میں آئی ہیں اس مختصر رسالہ میں لکھتا تو شائد میں دسن جزو تک بھی لکھ کر فارغ نہ ہو سکتا لیکن میں ناظرین کو توجہ دلاتا ہوں کہ ضرور وہ صحاح ستہ کی اصل کتابیں یا ان کے تراجم کو غور سے دیکھیں تا انہیں معلوم ہو کہ کس کثرت سے اور کس قوت بیان کے ساتھ اس قسم کی احادیث موجود ہیں۔ دوسرا ام تنقیح طلب یہ تھا کہ قرآن کریم میں مسیح موعود کی نسبت کچھ ذکر ہے یا نہیں اس کا فیصلہ دلائل قطعیہ نے اس طرح پر دیا ہے کہ ضرور یہ ذکر قرآن میں موجود ہے اور کچھ شک نہیں کہ جو شخص قرآن کریم کی ان آئندہ کی پیشگوئیوں پر غور کرے گا جو اس امت کے آخری زمانہ کی نسبت اس مقدس کتاب میں ہیں تو اگر وہ فہیم اور زندہ دل اپنے سینہ میں رکھتا ہے تو اس کو اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں ہوگا کہ قرآن کریم میں یقینی او قطعی طور پر ایک ایسے صلح کی خبر موجود ہے جس کا دوسرے التكوير : ۵