شہادة القرآن — Page 310
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۰۸ شهادة القرآن ماسوا اس کے ان پیشگوئیوں میں ان کی صداقت کیلئے ایک عظیم الشان نشان یہ ہے کہ دنیوی انقلابات کے متعلق جو کچھ ان میں درج تھا اور بظاہر وہ سب ناشدنی باتیں تھیں وہ تمام باتیں پوری ہوگئی ہیں کیونکہ تیرھویں صدی کی ابتدا سے ہی ہر یک اندرونی اور بیرونی آفت میں ترقی ہونے لگی یہاں تک کہ تیرھویں صدی کے خاتمہ تک گویا دین اور اسلامی شوکت اور حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور وہ بلائیں مسلمانوں کے دین اور دنیا پر نازل ہوئیں کہ گویا اُن کا جہان ہی بدل گیا۔ جب ہم ان بلاؤں کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر پھر ان پیشگوئیوں پر نظر ڈالتے ہیں جو امام (۱۳) بخاری اور مسلم وغیرہ نے اس وقت سے قریباً گیارہ سو برس پہلے لکھی تھیں اور اس زمانہ میں لکھی تھیں کہ جب اسلام کا آفتاب نصف النہار پر تھا اور اس کی اندرونی حالت گویا حسن میں رشک یوسف تھی اور اس کی بیرونی حالت اپنی شوکت سے اسکندر رومی کو شرمندہ کرتی تھی تو اپنے نبی کریم کی کامل اور پاک وحی اور عظمت اور جلال اور قوت قدسیہ کو یاد کر کے ہماری رقت ایمانی جوش میں آتی ہے اور بلا اختیار رونا آتا ہے۔ سُبحان اللہ وہ کیا نور تھا جس پر آج سے تیرہ سو برس پہلے قبل از وقت ظاہر کیا گیا کہ اس کی اُمت ابتدا میں کیونکر نشو و نما کرے گی اور کیونکر خارق عادت طور پر اپنی ترقی دکھلائے گی اور کیونکر آخری زمانہ میں ایک دفعہ نیچے گرے گی اور پھر کیونکر چند صدیوں میں قوم نصاریٰ کا تمام روئے زمین پر غلبہ ہو جائے گا اور یا در ہے کہ اسی زمانہ کی نسبت مسیح موعود کے ضمن بیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی خبر دی جو صحیح مسلم میں درج ہے اور فرمایا لیتـركـن القلاص فلا يسعى عليها یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنی کی سواری موقوف ہو جائے گی پس کوئی ان پر سوار ہو کر ان کو نہیں دوڑائے گا اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا کہ اس کے نکلنے سے اونٹوں کے دوڑانے کی حاجت نہیں رہے گی اور اونٹ کو اس لئے ذکر کیا کہ عرب کی سواریوں میں سے بڑی سواری اونٹ ہی ہے جس پر وہ اپنے مختصر گھر کا تمام اسباب رکھ کر پھر سوار بھی ہو سکتے ہیں اور بڑے کے ذکر میں چھوٹا خود ضمنا آجاتا ہے۔ پس حاصل مطلب یہ تھا کہ اس زمانہ میں ایسی سواری نکلے گی کہ اونٹ پر بھی غالب آجائے گی جیسا کہ دیکھتے ہو کہ ریل کے نکلنے سے قریباً وہ تمام کام جو اونٹ کرتے تھے اب ریلیں کر رہی ہیں ۔