سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 550

سَت بچن — Page 301

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۰۱ حاشیه متعلقه صفحه ۱۶۴ مرہم حوار بین جس کا دوسرا نام مرہم عیسی بھی ہے ست بچن یہ مرہم نہایت مبارک مرہم ہے جو زخموں اور جراحتوں اور نیز زخموں کے نشان معدوم کرنے کے لئے نہایت نافع ہے طبیبوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسی کے لئے تیار کی تھی یعنی جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام یہود علیهم اللعنة کے پنجہ میں گرفتار ہو گئے اور یہودیوں نے چاہا کہ حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچ کر قتل کریں تو انہوں نے گرفتار کر کے صلیب پر کھینچنے کی کارروائی شروع کی مگر خدا تعالیٰ نے یہود کے بدارادہ سے حضرت عیسی کو بچالیا۔ کچھ خفیف سے زخم بدن پر لگ گئے سو وہ اس عجیب و غریب مرہم کے چند روز استعمال کرنے سے بالکل دور ہو گئے یہاں تک کہ نشان بھی جو دوبارہ گرفتاری کیلئے کھلی کھلی علامتیں تھیں بالکل مٹ گئے۔ یہ بات انجیلوں سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب حضرت مسیح نے صلیب سے نجات پائی کہ جو در حقیقت دوبارہ زندگی کے حکم میں تھی تو وہ اپنے حواریوں کو ملے اور اپنے زندہ سلامت ہونے کی خبر دی حواریوں نے تعجب سے دیکھا کہ صلیب پر سے کیونکر بچ گئے اور گمان کیا کہ شاید ہمارے سامنے ان کی روح متمثل ہو گئی ہے تو انہوں نے اپنے زخم دکھلائے جو صلیب پر باندھنے کے وقت پڑ گئے تھے تب حواریوں کو یقین آیا کہ خدا تعالیٰ نے یہودیوں کے ہاتھ سے ان کو نجات دی۔ حال کے عیسائیوں کی یہ نہایت سادہ لوحی ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ یسوع مسیح مرکز نئے سرے زندہ ہوا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ خدا جو محض قدرت سے اس کو زندہ کرتا اس کے زخموں کو بھی اچھا کر دیتا با لخصوص جبکہ کہا جاتا ہے کہ دوسرا جسم جلالی ہے جو آسمان پر اُٹھایا گیا اور خدا کی داہنی طرف جا بیٹھا۔ تو کیا قبول کر سکتے ہیں کہ جلالی جسم پر بھی یہ زخموں کا کلنک باقی رہا۔ اور مسیح کا حاشیہ۔ قرآن شریف میں جو وارد ہے وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوا یعنی عیسی نہ مقتول ہوا نہ مصلوب ہوا اس بیان سے یہ بات منافی نہیں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر زخمی ہو گئے کیونکہ مصلوبیت سے مراد وہ امر ہے جو صلیب پر چڑھانے کی علت غائی ہے اور وہ قتل ہے اور کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ نے دشمنوں کے اس اصل مقصود سے ان کو محفوظ رکھا اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا ہے وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ یعنی خدا تجھ کولوگوں سے بچائے گا۔ حالانکہ لوگوں نے طرح طرح کے دکھ دیئے وطن سے نکالا دانت شہید کیا انگلی کو رخی کیا اور کئی زخم تلوار کے پیشانی پر لگائے سو در حقیقت اس پیشگوئی میں بھی اعتراض کا محل نہیں کیونکہ کفار کے حملوں کی علت غائی اور اصل مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی کرنا یا دانت کا شہید کرنا نہ تھابلکہ قتل کرنا مقصود بالذات تھا سو کفار کے اصل ارادے سے آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کوخدا نے محفوظ رکھا اسی طرح جن لوگوں نے حضرت مسیح کوسولی پر چڑھایا تھا ان کی اس کارروائی کی علت غائی حضرت مسیح کا زخمی ہوا نہ تھا بلکہ انکا اصل ارادہ حضرت عیسی علیہ السلام کوسولی کے ذریعہ سے قتل کر دینا تھا سوخدا نے ان کو اس بدار ادہ سے محفوظ رکھا اور کچھ شک نہیں کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے پس قول ما صلبوہ اُن پر صادق آیا۔ منہ ل النساء : ۱۵۸ ل المائدة: ۶۸ الف