سَت بچن — Page 302
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۰۲ ست بچن نے خود اپنے اس قصہ کی مثال یونس کے قصہ سے دی اور ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا پس اگر مسیح مر گیا تھا تو یہ مثال صحیح نہیں ہو سکتی بلکہ ایسی مثال دینے والا ایک سادہ لوح آدمی ٹھیرتا ہے جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ مشتبہ اور مشتبہ یہ میں مشابہت تامہ ضروری ہے۔ غرض اس مرہم کی تعریف میں اس قدر لکھنا کافی ہے کہ مسیح تو بیماروں کو اچھا کرتا تھا مگر اس مرہم نے مسیح کو اچھا کیا انجیلوں سے یہ پتہ بھی بخوبی ملتا ہے کہ انہیں زخموں کی وجہ سے حضرت مسیح پلا طوس کی بستی میں چالیس دن تک برابر ٹھیرے اور پوشیدہ طور پر یہی مرہم اُن کے زخموں پر لگتی رہی آخر اللہ تعالیٰ نے اسی سے اُن کو شفا بخشی اس مدت میں زیرک طبع حواریوں نے یہی مصلحت دیکھی کہ جاہل یہودیوں کو تلاشی اور جستجو سے باز رکھنے کے لئے اور نیز اُن کا پُر کینہ جوش فرو کرنے کی غرض سے پلا طوس کی بستیوں میں یہ مشہور کر دیں کہ یسوع مسیح آسمان پر معہ جسم اُٹھایا گیا اور فی الواقعہ انہوں نے یہ بڑی دانائی کی کہ یہودیوں کے خیالات کو اور طرف لگا دیا اور اس طرف پہلے سے یہ انتظام ہو چکا تھا اور بات پختہ ہو چکی تھی کہ فلاں تاریخ پلاطوس کی عملداری سے یسوع مسیح باہر نکل جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حواری اُن کو کچھ دور تک سڑک پر چھوڑ آئے اور حدیث صحیح سے جو طبرانی میں ہے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس واقعہ کے بعد ستاہی برس زندہ رہے اور ان برسوں میں انہوں نے بہت سے ملکوں کی سیاحت کی اسی لئے ان کا نام مسیح ہوا اور کچھ تعجب نہیں کہ وہ اس سیاحت کے زمانہ میں تبت میں بھی آئے ہوں جیسا کہ آجکل بعض انگریزوں کی تحریروں سے سمجھا جاتا ہے ڈاکٹر برنیئر اور بعض دوسرے یوروپین عالموں کی یہ رائے ہے کہ کچھ تعجب نہیں کہ کشمیر کے مسلمان باشندہ دراصل یہود ہوں پس یہ رائے بھی کچھ بعید نہیں کہ حضرت مسیح انہیں لوگوں کی طرف آئے ہوں اور پھر تبت کی طرف رخ کر لیا ہو اور کیا تعجب کہ حضرت مسیح کی قبر کشمیر * یا اس کے نواح میں ہو۔ یہودیوں کے ملکوں سے ان کا نکلنا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبوت اُن کے خاندان سے خارج ہو گئی ۔ جو لوگ اپنی قوت عقلیہ سے کام لینا نہیں چاہتے اُن کا منہ بند کرنا مشکل ہے مگر مرہم حوار متین نے اس بات کا صفائی سے فیصلہ کر دیا کہ حاشیہ در حاشیہ ۔ ڈاکٹر بر نیرا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ کشمیر میں یہودیت کی بہت سی علامتیں پائی جاتی ہیں چنا نچہ پیر پنجال سے گذر کر جب میں اس ملک میں داخل ہوا تو دیہات کے باشندوں کی صورتیں یہود کی سی دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ان کی صورتیں اور ان کے طور طریق اور وہ نا قابل بیان خصوصیتیں جن سے ایک سیاح مختلف اقوام کے لوگوں کی خود بخود شناخت اور تمیز کر سکتا ہے سب یہودیوں