سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 550

سَت بچن — Page 299

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۹۹ ست بچن لہذا قر آنی عقیدہ یہ بھی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کا خالق اور پیدا کنندہ ہے اسی طرح ۱۷۵ وہ ہر ایک چیز کا واقعی اور حقیقی طور پر قیوم بھی ہے یعنی ہر ایک چیز کا اُسی کے وجود کے ساتھ بقا ہے اور اُس کا وجود ہر ایک چیز کے لئے بمنزلہ جان ہے اور اگر اُس کا عدم فرض کر لیں تو ساتھ ہی ہر یک چیز کا عدم ہوگا ۔ غرض ہر یک وجود کے بقا اور قیام کے لئے اُس کی معیت لازم ہے لیکن آریوں اور عیسائیوں کا یہ اعتقاد نہیں ہے آریوں کا اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کو ارواح اور اجسام کا خالق نہیں جانتے اور ہر یک چیز سے ایسا تعلق اُس کا نہیں مانتے جس سے ثابت ہو کہ ہر یک چیز اُسی کی قدرت اور ارادہ کا نتیجہ ہے اور اُس کی مشیت کے لئے بطور سایہ کے ہے بلکہ ہر ایک چیز کا وجود ایسے طور سے مستقل خیال کرتے ہیں جس سے سمجھا جاتا ہے کہ اُن کے زعم میں تمام چیزیں اپنے وجود میں مستقل طور پر قدیم اور انادی ہیں پس جبکہ یہ تمام موجود چیزیں اُن کے خیال میں خدا تعالیٰ کی قدرت سے نکل کر قدرت کے ساتھ قائم نہیں تو بلا شبہ یہ سب چیزیں ہندوؤں کے پر میشر سے ایسی بے تعلق ہیں کہ اگر اُن کے پرمیشر کا مرنا بھی فرض کرلیں تب بھی روحوں اور جسموں کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ اُن کا پرمیشر صرف معمار کی طرح ہے اور جس طرح اینٹ اور گارہ معمار کی ذاتی قدرت کے ساتھ قائم نہیں تا ہر ایک حال میں اُس کے وجود کا تابع ہو۔ یہی حال ہندوؤں کے پرمیشر کی چیزوں کا ہے سوجیسا کہ معمار کے مرجانے سے ضروری نہیں ہوتا کہ جس قدر اُس نے اپنی عمر میں عمارتیں بنائی ہوں وہ ساتھ ہی گر جائیں ایسا ہی یہ بھی ضرور نہیں کہ ہندوؤں کے پرمیشر کے مرجانے سے کچھ بھی صدمہ دوسری چیزوں کو پہنچے کیونکہ وہ اُنکا قیوم نہیں - اگر قیوم ہوتا تو ضرور اُن کا خالق بھی ہوتا کیونکہ جو چیزیں پیدا ہونے میں خدا کی قوت کی محتاج نہیں وہ قائم رہنے میں بھی اس کی قوت کے سہارے کی حاجت نہیں رکھتیں اور عیسائیوں کے اعتقاد کی رو سے بھی اُن کا مجسم خدا قیوم الاشیاء نہیں ہوسکتا کیونکہ قیوم ہونے کیلئے معیت ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ عیسائیوں کا خدا یسوع اب زمین پر نہیں کیونکہ اگر زمین پر ہوتا تو ضرور لوگوں کو نظر آتا جیسا کہ اُس زمانہ میں نظر آتا تھا جبکہ پلا طوس کے عہد میں اُس کے ملک میں موجود تھا پس جبکہ وہ زمین پر موجود نہیں تو زمین کے لوگوں کا یا جو چیز قدرت کے سہارے سے پیدا نہیں ہوئی وہ اپنی بقا میں بھی قدرت کے سہارے کی محتاج نہیں ۔ منہ