سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 550

سَت بچن — Page 295

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۹۵ ست بچن کہ وہ خود بھی نیک نہیں ہے مگر افسوس کہ تکبر کا سیلاب اس کی تمام حالت کو برباد کر گیا ہے کوئی بھلا ا ا آدمی گذشتہ بزرگوں کی مذمت نہیں کرتا لیکن اُس نے پاک نبیوں کو رہزنوں اور بٹھاروں کے نام سے موسوم کیا ہے اُس کی زبان پر دوسروں کیلئے ہر وقت بے ایمان حرام کا ر کا لفظ چڑھا ہوا ہے کسی کی نسبت ادب کا لفظ استعمال نہیں کیا کیوں نہ ہو خدا کا فرزند جو ہوا۔ اور پھر جب دیکھتے ہیں کہ یسوع کے کفارہ نے حواریوں کے دلوں پر کیا اثر کیا کیا وہ اُس پر ایمان لا کر گناہ سے باز آگئے تو اس جگہ بھی کچی پاکیزگی کا خانہ خالی ہی معلوم ہوتا ہے یہ تو ظاہر ہے کہ وہ لوگ سولی ملنے کی خبر کو سن کر ایمان لا چکے تھے لیکن پھر بھی نتیجہ یہ ہوا کہ یسوع کی گرفتاری پر پطرس نے سامنے کھڑے ہو کر اُس پر لعنت بھیجی باقی سب بھاگ گئے اور کسی کے دل میں اعتقاد کا نور باقی نہ رہا۔ پھر بعد اس کے گناہ سے رُکنے کا اب تک یہ حال ہے کہ خاص یورپ کے محققین کے اقراروں سے یہ بات ثابت ہے کہ یورپ میں حرام کاری کا اِس قدر زور ہے کہ خاص لندن میں ہر سال ہزاروں حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس قدر گندے واقعات یورپ کے شائع ہوئے ہیں کہ کہنے اور سننے کے لائق نہیں شراب خواری کا اس قدر زور ہے کہ اگر ان دوکانوں بقیہ حاشیہ۔ کہ جن لوگوں کو شیطان کا سخت آسیب ہو جاتا ہے اور شیطان اُن سے محبت کرنے لگتا ہے تو گو اُن کی اپنی مرگی وغیرہ اچھی نہیں ہوتی مگر دوسروں کو اچھا کر سکتے ہیں کیونکہ شیطان اُن سے محبت کرتا ہے اور اُن سے جدا ہونا نہیں چاہتا مگر نہایت محبت کی وجہ سے اُن کی باتیں مان لیتا ہے اور دوسروں کو اُن کی خاطر سے شیطانی مرضوں سے نجات دیتا ہے اور ایسے عامل ہمیشہ شراب اور پلید چیزیں استعمال کرتے رہتے ہیں اور اول درجہ کے شرابی اور کھاؤ پیو ہوتے ہیں چنانچہ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ ایک شخص اسی طرح مرض بیہوشی میں گرفتار تھا اور کہتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے جنات کو نکال دیا کرتا تھا۔ غرض یسوع کا یہ واقعہ شیطان کے ہمراہ کا مرض صرع پر صاف دلیل ہے اور ہمارے پاس کئی وجوہ ہیں جن کے مفصل لکھنے کی ابھی ضرورت نہیں اور یقین ہے کہ محقق عیسائی جو پہلے ہی ہماری اس رائے سے اتفاق رکھتے ہیں انکار نہیں کریں گے اور جو نادان پادری انکار کریں تو ان کو اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ یسوع کا شیطان کے ہمراہ جانا در حقیقت بیداری کا ایک واقعہ ہے۔ اور صرع وغیرہ کے لحوق کا نتیجہ نہیں مگر ثبوت میں معتبر گواہ پیش کرنے چاہئیں جو رویت کی گواہی دیتے ہوں اور معلوم ہوتا ہے کہ کبوتر کا اتر نا اور یہ کہنا کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے درحقیقت یہ بھی ایک مرگی کا دورہ تھا جس کے ساتھ ایسے تخیلات پیدا ہوئے بات یہ ہے کہ کبوتر کا رنگ سفید ہوتا ہے اور بلغم کا رنگ بھی سفید ہوتا ہے اور مرگی کامادہ بلغم ہی ہوتا ہے سودہ بلغم کبوتر کی شکل پر نظر آگئی اور یہ جو کہا کہ تو میرا بیٹا ہے اس میں بھید یہ ہے کہ در حقیقت مصروع مرگی کا بیٹا ہی ہوتا ہے اسی لئے مرگی کوفن طبابت میں ام الصبیان کہتے ہیں یعنی بچوں کی ماں ۔ اور ایک مرتبہ یسوع کے چاروں حقیقی بھائیوں نے اُس وقت کی گورنمنٹ میں درخواست بھی دی تھی کہ یہ شخص دیوانہ ہو گیا ہے اس کا کوئی بندو بست کیا جاوے یعنی عدالت کے جیل خانہ میں داخل کیا جاوے تا کہ وہاں کے دستور کے موافق اس کا علاج ہو تو یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔ • جلد نوٹ ۔ سوال یہ ہے کہ شیطان کو کس کس نے یسوع کے ساتھ دیکھا۔ منہ منه