سَت بچن — Page 294
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۹۴ ست بچن بقیہ (۱۷۰) بھی اپنے تئیں نیک کہلانے سے کنارہ کشی ظاہر کی مگر افسوس کہ اب عیسائیوں نے نہ صرف نیک قرار دے دیا بلکہ خدا بنا رکھا ہے غرض کفارہ مسیح کی ذات کو بھی کچھ فائدہ نہ پہنچا سکا اور تکبر اور خود بینی جو تمام بدیوں کی جڑ ہے وہ تو یسوع صاحب کے ہی حصہ میں آئی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اُس نے آپ خدا بن کر سب نبیوں کو رہنرن اور بٹمار اور نا پاک حالت کے آدمی قرار دیا ہے حالانکہ یہ اقرار بھی اُس کی کلام سے نکلتا ہے غضب کو اس طرح لوگوں سے ٹال دیا ہے کہ آپ سولی پر چڑھ گیا اب بیچارے محقق یورپین ایسی بے ہودہ باتوں کو کیونکر مان لیں ایسا ہی عیسائیوں کی یہ سادہ لوحی کے خیال کہ خدا کو تین جسم پر منقسم حاشیہ کر دیا ایک وہ جسم جو آدمی کی شکل میں ہمیشہ رہے گا جس کا نام ابن اللہ ہے دوسرے وہ جسم جو کبوتر کی طرح ہمیشہ رہیگا جس کا نام روح القدس ہے۔ تیسرے وہ جسم جس کے دہنے ہاتھ بیٹا جا بیٹھا ہے۔ اب کوئی عقلمند ان اجسام ثلاثہ کو کیونکر قبول کرے لیکن شیطان کی ہمراہی کا الزام یوروپین فلاسفروں کے نزدیک کچھ کم ہنسی کا باعث نہیں بہت کوششوں کے بعد یہ تاویلیں پیش ہوتی ہیں کہ یہ حالات یسوع کے دماغی قومی کے اپنے ہی تخیلات تھے اور اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ تندرستی اور صحت کی حالت میں ایسے مکروہ تخیلات پیدا نہیں ہو سکتے بہتوں کو اس بات کی ذاتی تحقیقات ہے کہ مرکی کی بیماری کے مبتلا اکثر شیاطین کو اسی طرح دیکھا کرتے ہیں وہ بعینہ ایسا ہی بیان کیا کرتے ہیں کہ ہمیں شیطان فلاں فلاں جگہ لے گیا اور یہ یہ عجائبات دکھلائے اور مجھے یاد ہے کہ شاید چونتیس برس کا عرصہ گذرا ہوگا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ شیطان سیاہ رنگ اور بدصورت کھڑا ہے اول اُس نے میری طرف توجہ کی اور میں نے اُس کو منہ پر طمانچہ مار کر کہا کہ دور ہواے شیطان تیرا مجھ میں حصہ نہیں اور پھر وہ ایک دوسرے کی طرف گیا اور اُس کو اپنے ساتھ کر لیا اور جس کو ساتھ کر لیا اُس کو میں جانتا تھا اتنے میں آنکھ کھل گئی اُسی دن یا اُس کے بعد اُس شخص کو مرگی پڑی جس کو میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ شیطان نے اُس کو ساتھ کر لیا تھا اور صرع کی بیماری میں گرفتار ہو گیا اس سے مجھے یقین ہوا کہ شیطان کی ہمراہی کی تعبیر مرگی ہے پس یہ نہایت لطیف نکتہ اور بہت صاف اور عاقلانہ رائے ہے کہ یسوع دراصل مرگی کی بیماری میں مبتلا تھا اور اسی وجہ سے ایسی خواہیں بھی دیکھا کرتا تھا اور یہودیوں کا یہ الزام کہ تو بعل زبول کی مدد سے ایسے کام کرتا ہے اس رائے کا مؤید اور بہت تسکین بخش ہے کیونکہ بعل زبول بھی شیطان کا نام ہے اور یہودیوں کی بات اس وجہ سے بھی درست اور قرین قیاس معلوم ہوتی ہے