سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 550

سَت بچن — Page 283

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۸۳ ست بچن بچالے گا بلکہ بیشمار جونوں کا بھگتنا ضروری ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا اور کرم اور جود کے طور پر (۱۵۹) کچھ بخشش کرنا تو پر میشر کی عادت ہی نہیں۔ جو کچھ انسان یا حیوان کوئی عمدہ حالت رکھتا ہے یا کوئی نعمت پاتا ہے وہ کسی پہلی جون کا پھل ہے مگر افسوس کہ باوجود یکہ آریوں کو دید کے اصولوں پر بہت ہی ناز ہے مگر پھر بھی یہ وید کی باطل تعلیم اُن کی انسانی کانشنس کو مغلوب نہیں کر سکی اور مجھے اُن ملاقاتوں کی وجہ سے جو اکثر اس فرقہ کے بعض لوگوں سے ہوتی ہیں یہ بات بار ہا تجربہ میں آچکی ہے کہ جس طرح نیوگ کے ذکر کے وقت ایک ندامت آریوں کو دامنگیر ہو جاتی ہے اسی طرح وہ نہایت ہی ندامت زدہ ہوتے ہیں جب کہ اُن سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پرمیشر کی قدرتی اور اخلاقی طاقتیں کیوں ایسی محدود ہوگئیں جن کی شامت سے اس کی خدائی بھی عند العقل ثابت نہیں ہوسکتی اور جس کی وجہ سے بد نصیب آریہ دائگی نجات پانے سے محروم رہے۔ غرض ہندوؤں کے پرمیشر کی حقیقت اور ماہیت یہی ہے کہ وہ اخلاقی اور الوہیت کی طاقتوں میں نہایت کمزور اور قابل رحم ہے اور شاید یہی سبب ہے کہ ویدوں میں پر میشر کی پرستش چھوڑ کر اگئی اور وایو اور چاند اور سورج اور پانی کی پرستش پر زور ڈالا گیا ہے اور ہر یک عطا اور بخشش کا سوال اُن سے کیا گیا ہے کیونکہ جبکہ پر میشر آریوں کو کسی منزل تک نہیں پہنچا سکتا بلکہ خود پوری قدرتوں سے محروم رہ کر نا مرادی کی حالت میں زندگی بسر کرتا ہے تو پھر دوسرے کا اُس پر بھروسہ کرنا صریح غلطی ہے۔ ہندوؤں کے پرمیشر کی کامل تصویر آنکھوں کے سامنے لانے کیلئے اسی قدر کافی ہے جو ہم لکھ چکے۔ اب دوسرا مذہب یعنی عیسائی باقی ہے جس کے حامی نہایت زور وشور سے اپنے خدا کو جس کا نام انہوں نے یسوع مسیح رکھا ہوا ہے بڑے مبالغہ سے سچا خدا سمجھتے ہیں اور عیسائیوں کے خدا کا حلیہ یہ ہے کہ وہ ایک اسرائیلی آدمی مریم بنت یعقوب کا بیٹا ہے جو ۳۲ برس کی عمر پا کر اس دار الفنا سے گذر گیا جب ہم سوچتے ہیں کہ کیونکر وہ گرفتار ہونے کے وقت ساری رات دعا کر کے پھر بھی اپنے مطلب سے نامراد رہا اور ذلت کے ساتھ پکڑا گیا