سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 550

سَت بچن — Page 284

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۸۴ ست بچن (۱۲۰) اور بقول عیسائیوں کے سولی پر کھینچا گیا اور ایلی اہلی کرتا مر گیا تو ہمیں یک دفعہ بدن پر لرزہ پڑتا ہے کہ کیا ایسے انسان کو جس کی دعا بھی جناب الہی میں قبول نہ ہو سکی اور نہایت ناکامی اور نامرادی سے ماریں کھاتا کھاتا مر گیا قادر خدا کہہ سکتے ہیں ذرا اُس وقت کے نظارہ کو آنکھوں کے سامنے لاؤ جبکہ یسوع مسیح حوالات میں ہو کر پلا طوس کی عدالت سے ہیرو دوس کی طرف بھیجا گیا کیا یہ خدائی کی شان ہے کہ حوالات میں ہو کر ہتکڑی ہاتھ میں زنجیر پیروں میں چند سپاہیوں کی حراست میں چالان ہو کر جھڑکیاں کھاتا ہوا کلیل کی طرف روانہ ہوا۔ اور اس حالت پر ملالت میں ایک حوالات سے دوسری حوالات میں پہنچا۔ پلاطوس نے کرامت دیکھنے پر چھوڑنا چاہا اُس وقت کوئی کرامت دکھلا نہ سکا۔ ناچار پھر حراست میں واپس کر کے یہودیوں کے حوالہ کیا گیا اور اُنہوں نے ایک دم میں اُس کی جان کا قصہ تمام کر دیا۔ اب ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا اصلی اور حقیقی خدا کی یہی علامتیں ہوا کرتی ہیں کیا کوئی پاک کانشنس اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ جو زمین و آسمان کا خالق اور بے انتہا قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے وہ اخیر پر ایسا بدنصیب اور کمزور اور ذلیل حالت میں ہو جائے که شریر انسان اُس کو اپنے ہاتھوں میں مل ڈالیں ۔ اگر کوئی ایسے خدا کو پوجے اور اُس پر بھروسہ کرے تو اُسے اختیار ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر آریوں کے پرمیشر کے مقابل پر بھی عیسائیوں کے خدا کو کھڑا کر کے اُس کی طاقت اور قدرت کو وزن کیا جائے تب بھی اُس کے مقابل پر بھی یہ بیچ محض ہے کیونکہ آریوں کا فرضی پر میشر اگر چہ پیدا کرنے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا لیکن کہتے ہیں کہ پیدا شدہ چیزوں کو کسی قدر جوڑ سکتا ہے مگر عیسائیوں کے یسوع میں تو اتنی بھی طاقت ثابت نہ ہوئی جس وقت یہودیوں نے صلیب پر کھینچ کر کہا تھا کہ اگر تو اب اپنے آپ کو بچائے تو ہم تیرے پر ایمان لاویں گے تو وہ اُن کے سامنے اپنے تئیں بچا نہ سکا ور نہ اپنے تئیں بچانا کیا کچھ بڑا کام تھا صرف اپنے روح کو اپنے جسم کے ساتھ جوڑنا تھا سو اس کمزور کو جوڑنے کی بھی طاقت نہ ہوئی پیچھے سے پردہ داروں