سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 550

سَت بچن — Page 282

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۸۲ ست بچن ۱۵۸ قوتوں اور خاصیتوں میں کسی بنانے والے کی محتاج نہیں ٹھہریں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اُن کو باہم تعلق کیلئے کسی دوسرے جوڑنے والے کی حاجت پڑگئی حالانکہ روحوں کے ساتھ اُن کے قومی کا جوڑنا اور ذرات اجسام کے ساتھ اُن کی قوتوں کا جوڑنا یہ بھی ایک جوڑنے کی قسم ہے پس اس سے تو یہ ثابت ہی ہو گیا کہ ان قدیم چیزوں کو جیسا کہ اپنے وجود کیلئے کسی خالق کی ضرورت نہیں اور اپنی قوتوں کیلئے کسی موجد کی حاجت نہیں ایسا ہی باہم جوڑ پیدا ہونے کے لئے کسی صانع کی حاجت نہیں اور یہ نہایت بیوقوفی ہوگی کہ جب اول خود اپنی ہی زبان سے ان چیزوں کی نسبت مان لیں کہ وہ اپنے وجود اور اپنی قوتوں اور اپنے باہم جوڑ کیلئے دوسرے کے محتاج نہیں تو پھر اُسی منہ سے یہ بھی کہیں کہ بعض چیزوں کے جوڑنے کیلئے ضرور کسی دوسرے کی حاجت ہے پس یہ تو ایک دعویٰ ہوگا جس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں ۔ غرض اس عقیدہ کی رو سے پر میشر کا وجود ہی ثابت کرنا مشکل ہوگا سو اُس انسان سے زیادہ کوئی بد قسمت نہیں جو ایسے پر میشر پر بھروسہ رکھتا ہے جس کو اپنا وجود ثابت کرنے کیلئے بھی باعث کمی قدرت کے کوئی عمدہ اسباب میسر نہیں آ سکے ۔ یہ تو ہندوؤں کے پرمیشر میں خدائی کی طاقتیں ہیں اور اخلاقی طاقتوں کا یہ حال ہے کہ وہ انسانوں کی طاقتوں سے بھی کچھ گری ہوئی معلوم ہوتی ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک نیک دل انسان بارہا ایسے قصورواروں کے قصور بخش دیتا ہے جو عجز اور نیاز کے ساتھ اُس سے معافی چاہتے ہیں اور بارہا اپنے کرم نفس کی خاصیت سے ایسے لوگوں پر احسان کرتا ہے جن کا کچھ بھی حق نہیں ہوتا لیکن آریہ لوگ اپنے پر میشر کی نسبت یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں قسموں کے خلقوں سے بھی بے نصیب ہے اور اُن کے نزدیک ہر یک گناہ کروڑ با جونوں کا موجب ہے اور جب تک کوئی گنہ گار بے انتہا جونوں میں پڑ کر پوری سزا نہ پا لے تب تک کوئی صورت مخلصی نہیں اور اُن کے عقیدہ کی رو سے یہ امید بالکل بے سود ہے کہ انسان کی تو بہ اور پشیمانی اور استغفار اُس کے دوسرے جنم میں پڑنے سے روک دے گی یا حق کی طرف رجوع کرنا گذشتہ ناحق کے اقوال و اعمال کی سزا سے اُسے