سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 550

سَت بچن — Page 281

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۸۱ ست بچن اُنگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ وہ ایک ایسا کم سرمایہ پرمیشر ہے کہ اُس کی تمام قدرتوں کی حد معلوم ہو ۱۵۷ چکی ہے اور اگر اُس کی قدرتوں کی بہت ہی تعریف کی جائے تو اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنے جیسی قدیم چیزوں کو معماروں کی طرح جوڑنا جانتا ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ اپنے گھر سے کونسی چیز ڈالتا ہے تو نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نہیں ۔ غرض اس کی طاقت کا انتہائی مرتبہ صرف اس حد تک ہے کہ وہ موجودہ روحوں اور اجسام صغار کو جو قدیم اور اُس کے وجود کی طرح انا دی اور واجب الوجود ہیں جن کی پیدائش پر اُس کے وجود کا کچھ بھی اثر نہیں باہم پیوند کر دیتا ہے لیکن اس بات پر دلیل قائم ہونا مشکل ہے کہ کیوں ان قدیم چیزوں کو ایسے پرمیشر کی حاجت ہے جبکہ کل چیزیں خود بہ خود ہیں اُن کے تمام قومی بھی خود بہ خود ہیں اور اُن میں باہم ملنے کی استعداد بھی خود بخود ہے اور اُن میں قوت جذب اور کشش بھی قدیم سے ہے اور اُن کے تمام خواص جو ترکیب کے بعد بھی ظاہر ہوتے ہیں خود بخود ہیں تو پھر سمجھ نہیں آتا کہ کس دلیل سے اس ناقص اور نا طاقت پر میشر کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اور اس میں اور اُس کے غیر میں ما بہ الامتیاز بجز زیادہ ہوشیار اور ذہین ہونے کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ آریوں کا پر میشر اُن بے انتہا قدرتوں سے ناکام ہے جو الوہیت کے کمال کے متعلق ہیں اور یہ اس فرضی پر میشر کی بد قسمتی ہے کہ اس کو وہ کمال تام میسر نہ ہو سکا جو الوہیت کا پورا جلال چمکنے کیلئے ضروری ہے اور دوسری بدھیبی یہ ہے کہ بجز چند ورق وید کے قانون قدرت کی رو سے اُس کے شناخت کرنے کی کوئی بھی راہ نہیں کیونکہ اگر یہی بات صحیح ہے کہ ارواح اور ذرات اجسام معہ اپنی تمام قوتوں اور کششوں اور خاصیتوں اور عقلوں اور اور اکوں اور شعوروں کے خود بخود ہیں تو پھر ایک عقل سلیم ان چیزوں کے جوڑنے کیلئے کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں سمجھتی وجہ یہ کہ اس صورت میں اس سوال کا جواب دینا امکان سے خارج ہے کہ جو چیز میں اپنے وجود کی قدیم سے آپ ہی خدا ہیں اور اپنے اندر وہ تمام قوتیں بھی رکھتی ہیں جو اُن کے باہم جوڑنے کیلئے ضروری ہیں تو پھر جس حالت میں اُن کو اپنے وجود کیلئے پرمیشر کی حاجت نہیں ہوئی اور اپنی