سَت بچن — Page 276
روحانی خزائن جلد ۱۰ ست بچن ۱۵۲ اور زمین و آسمان کے عجائب قدرت دیکھ کر اس بات کی ضرورت کو تسلیم کرے کہ اس احسن ترتیب اور ابلغ ترکیب اور پر حکمت اشیاء کا ضرور کوئی خالق ہوگا تو بالطبع اُس کو اس بات کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی اس کو کوئی نشان ملے صرف خود ساختہ خیالات ہی پر مدار نہ رہے لیکن جب ایک زمانہ دراز تک اُس خالق کی طلب میں رہ کر پھر بھی اُس طرف سے کوئی آواز نہ آوے اور کوئی نشان پیدا نہ ہو تو وہ یقین جو اُس نے محض اپنی عقل کی تراش خراش سے پیدا کیا تھا آخر وہ بھی ایک بوسیدہ عمارت کی طرح گر جائے گا اور اُس کا پچھلا حال پہلے حال سے بدتر ہوگا کیونکہ یہ انسان میں ایک فطرتی خاصیت ہے کہ اگر اپنے وجود کے تمام زور اور تمام قوت سے ایک چیز کو ڈھونڈھے اور طلب کرنے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھے اور پھر بھی وہ چیز میسر نہ آوے تو اُس چیز کے وجود کی نسبت اُس کا اعتقاد قائم نہیں رہتا بالخصوص اگر کسی ایسے شخص کو ڈھونڈتا ہو جس کی نسبت اُس کا یہ اعتقاد بھی ہو کہ وہ میری اس کوشش اور اضطراب سے واقف ہے اور میری اس بیقراری پر مطلع ہے تو پھر اگر اس کی طرف سے کوئی پیغام نہ پہنچے تو بلا شبہ انکار اور نومیدی کا موجب ہوگا۔ پس اس تحقیق کی رو سے یہ بات ثابت شدہ امر ہے کہ خدا تعالی پر سچا یقین بغیر ذریعہ وحی اور الہام کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور اب ہم ہر یک مذہب کا معیار بیان کرتے ہیں اور تینوں مذہبوں آریہ۔ عیسائی ۔ اسلام کو بالمقابل لکھ کر کھرے کھوٹے کی تمیز ناظرین پر ہی چھوڑتے ہیں۔