سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 550

سَت بچن — Page 275

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۷۵ ست بچن ہو جانا یہی راہ ہے جس کا نام اسلام ہے لیکن اس راہ پر وہی قدم مارتا ہے جس کے دل پر اُس زندہ (۱۵۱) خدا کا خوف ایک قومی اثر ڈالتا ہے۔ اکثر لوگ بیہودہ طریقوں پر نجات کے خواہشمند رہتے ہیں لیکن اسلام وہی طریق نجات بتاتا ہے جو در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ازل سے مقرر ہے اور وہ یہ ہے کہ بچے اعتقاد اور پاک عملوں اور اس کی رضا میں محو ہونے سے اُس کے قرب کے مکان کو تلاش کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ اُس کا قرب اور اُس کی رضا حاصل ہو کیونکہ تمام عذاب خدا تعالیٰ کی دوری اور غضب میں ہے پس جس وقت انسان سچی تو بہ اور سچے طریق کے اختیار کرنے سے اور کچی تابعداری حاصل کرنے سے اور کچی توحید کے قبول کرنے سے خدا تعالیٰ سے نزدیک ہو جاتا ہے اور اُس کو راضی کر لیتا ہے تو تب وہ عذاب اُس سے دور کیا جاتا ہے لیکن یہ سوال کہ کیونکر انسان جھوٹے عقیدوں اور باطل خیالات میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اُس وقت غلط خیالات اور بد عقائد میں پھنس جاتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ کی سچی وحی کی پیروی نہیں کرتا بلکہ اپنے خود تراشیدہ خیالات یا اپنے جیسے کسی دوسرے انسان کے خیالات کا پیرو بن جاتا ہے یہ تو ظاہر ہے کہ انسان غلطی سے بچ نہیں سکتا اور اس کی فطرت پر سہود نسیان غالب ہے پھر ایسی راہ میں جو نہایت باریک اور ساتھ اُس کے نفسانی جذبات بھی لگے ہوئے ہیں کیونکر بیچ سکتا ہے لہذا تمام سچے طالبوں اور حقیقی راست بازوں نے اس بات کی تصدیق پر اپنے سر جھکا دیئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی کی راہوں کو دریافت کرنے کیلئے اُسی کی وحی اور الہام کی ضرورت ہے حق کے طالب کیلئے سب سے پہلے ضروری یہی مسئلہ ہے کہ کسی طرح خدا تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر یقین کامل پیدا ہو جائے لیکن جو ذات بالکل پوشیدہ اور غیب الغیب اور وراء الورا ہے انسان محض اپنی کوششوں اور اپنے ہی خود ساختہ گیان اور معرفت سے اُس پر یقین کامل نہیں لا سکتا بلکہ یک طرفہ کوششوں کا آخری نتیجہ شک اور وہم اور ہستی باری کا انکار ہے کیونکہ جو شخص دن یا بیس برس یا مثلاً پچاس برس تک خدا تعالیٰ کی طلب میں لگا رہے