سَت بچن — Page 272
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۷۲ ست بچن ۱۴۸ کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ تمام قوتیں اُس کی خدا تعالیٰ کے راہ میں لگ جائیں اور اُس کے زیر حکم واجب طور پر اپنے اپنے محل پر مستعمل ہوں اور کوئی قوت بھی اپنی خودروی سے نہ چلے یہ تو ظاہر ہے کہ نئی زندگی کامل تبدیلی سے ملتی ہے اور کامل تبدیلی ہرگز ممکن نہیں جب تک انسان کی تمام قوتیں جو اُس کی انسانیت کا نچوڑ اور لب لباب ہیں اطاعت الہی کے نیچے نہ آجائیں اور جب تمام قوتیں اطاعت الہی کے نیچے آگئیں اور اپنے نیچرل خواص کے ساتھ خط استقامت پر چلنے لگیں تو کا نہ و ایسے شخص کا نام مسلمان ہوگا لیکن اِن تمام ان تمام قوتوں کا اپنے اپنے مطالب میں پورے پورے طور پر کامیاب ہو جانا اور رضائے الہی کے نیچے گم ہو کر اعتدال مطلوب کو حاصل کرنا بجز تعلیم الہی اور تائید الہی غیر ممکن اور محال ہے اور ضرور تھا کہ کوئی کتاب دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی نازل ہوتی کہ جو اسلام کا طریق خدا کے بندوں کو سکھاتی کیونکہ جس طرح ہم اپنے ماتحت جانوروں گھوڑوں گدھوں بیلوں وغیرہ کو تربیت کرتے ہیں تا اُن کی مخفی استعداد میں ظاہر کریں اور اپنی مرضی کے موافق اُن کو چلاویں۔ اسی طرح خدا تعالی پاک فطرت انسانوں کی فطرتی قوتیں ظاہر کرنے کیلئے اُن کی طرف توجہ فرماتا ہے اور کسی کامل الفطرت پر وحی نازل کر کے دوسروں کی اُس کے ذریعہ سے اصلاح کرتا ہے تا وہ اُس کی اطاعت میں محو ہو جائیں یہی قدیم سے سنت اللہ ہے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ ہر یک زمانہ کی استعداد کے موافق اسلام کا طریق اُس زمانہ کو سکھلاتا رہا ہے۔ اور چونکہ پہلے نبی ایک خاص قوم اور خاص ملک کیلئے آیا کرتے تھے اس لئے ان کی تعلیم جو ابھی ابتدائی تھی مجمل اور ناقص رہتی تھی کیونکہ بوجہ کمی قوم اصلاح کی حاجت کم پڑتی تھی اور چونکہ انسانیت کے پودہ نے ابھی پورا نشو و نما بھی نہیں کیا تھا اسلئے استعداد یں بھی کم درجہ پر تھیں اور اعلیٰ تعلیم کی برداشت نہیں کر سکتی تھیں پھر ایسا زمانہ آیا کہ استعداد یں تو بڑھ گئیں مگر زمین گناہ اور گئیں مگر زمین گناہ اور بدکاری اور مخلوق پرستی سے ؟ سے بھر گئی اور سچی توحید اور سچی راستبازی نہ ہندوستان میں باقی رہی اور نہ مجوسیوں میں اور نہ یہودیوں میں اور نہ عیسائیوں میں اور تمام قو میں ضلالت اور نفسانی جذبات کے نیچے دب گئیں اُس وقت خدا نے قرآن شریف کو اپنے پاک نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کر کے دنیا کو کامل اسلام