سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 550

سَت بچن — Page 268

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶۸ ست بچن ۱۴۴ کو اس بچے فلسفہ کی خبر ہوتی تو مارے شرمندگی کے کسی کو مُنہ نہ دکھا سکتے ہزاروں فسق و فجور اور مکر اور فریب کے ساتھ یہ دعوے کرنا کہ ہم گناہ سے پاک ہو گئے ہیں عجیب قسم کی چالا کی ہے جس مذہب کا یہ اصول ہے کہ مسیح کی خود کشی نے تمام عبادتوں اور نیک کاموں اور نیک عملوں کو نکھا اور بیچ کر دیا ہے اور ان کی ضرورت کچھ بھی باقی نہیں رہی کیا ایسے عقیدے کے لوگوں کی نسبت کچھ اُمید کر سکتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی بندگی میں دل لگاویں اور سچے دل سے تمام بدکاریوں کو چھوڑ دیں۔ پھر جبکہ ایسے قابل شرم عقیدہ میں گرفتار ہو کر انواع اقسام کی غفلتوں اور فریبوں اور ناجائز کاموں میں گرفتار ہو رہے ہیں تو تعجب ہے کہ اپنے حال پر کچھ بھی نہیں روتے اور اپنی مصیبت پر ایک ذرہ ماتم نہیں کرتے بلکہ خود اندھے ہو کر دوسروں پر کی بصارت کی تہمت لگاتے ہیں ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ جسقدر با وانا نک صاحب کے اشعار میں توحید الہی کے متعلق اور سچی وحدانیت کے بیان کرنے میں عمدہ عمدہ مضامین پائے جاتے ہیں اگر وہ موجودہ انجیلوں میں پائے جاتے تو ہمیں بڑی ہی خوشی ہوتی مگر ایسے جعلی کتابوں میں سچے حقائق اور معارف کیونکر پائے جائیں جو حقیقی خدادانی اور حقیقی خدا پرستی اور حقیقی نجات کے بھید سے بہت ہی دور جا پڑے ہیں نادانوں کے منہ پر ہر وقت کفارہ اور مسیح کی خود کشی اور ایک فانی انسان کا خدا ہونا چڑھا ہوا ہے اور باقی تمام اعمال صالحہ سے فراغت کر رکھی ہے بیشک خدا کے بندوں اور اپنے بنی نوع کے لئے جان دینا اور انسان کی بھلائی کے لئے دکھ اُٹھانا نہایت قابل تعریف امر ہے مگر یہ بات ہرگز قابل تعریف نہیں کہ ایک شخص بے اصل وہم پر بھروسا کر کے کنوئیں میں کود پڑے کہ میرے مرنے سے لوگ نجات پا جائیں گے جان قربان کرنے کا یہ طریق تو بے شک صحیح ہے کہ خدا کے بندوں کی معقول طریقہ سے خدمت کریں اور اُن کی بھلائی میں اپنے تمام انفاس خرچ کر دیں اور ان کے لئے ایسی کوشش کریں کہ گویا اس راہ میں جان دے دیں مگر یہ ہرگز صحیح نہیں ہے کہ اپنے سر پر پتھر مارلیں یا کنوئیں میں ڈوب مریں یا پھانسی لے لیں اور پھر تصور کریں کہ اس بے جا حرکت سے نوع انسان کو کچھ فائدہ پہنچے گا عیسائیوں کو سمجھنا چاہئے کہ باوانا نک صاحب حقیقی نجات کی راہوں کو خوب معلوم کر چکے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ پاک ذات بجز اپنی