سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 550

سَت بچن — Page 265

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶۵ ست بچن خدا پوجے جاتے ہیں پس گویا چولہ صاحب بزبان حال ہر یک مذہب کے انسان کو کہہ رہا ہے کہ ۱۴۱ اے غافل تو کہاں جاتا ہے اور کن خیالات میں لگا ہے اگر سچے مذہب کا طالب ہے تو ادھر آ اور اُس خدا پر ایمان لاجس کی طرف لا اله الا الله محمد رسول اللہ بلاتا ہے کہ وہی غیر فانی اور کامل خدا اور تمام عیبوں سے منزہ اور تمام صفات کاملہ سے متصف ہے۔ با وانا تک صاحب پر پادریوں کا حملہ یہ عجیب بات ہے کہ اس زمانہ کے پادری جس قدر دوسرے مذاہب پر نکتہ چینی کرنے کے لئے اپنا وقت اور اپنا مال خرچ کر رہے ہیں اُس کا کروڑواں حصہ بھی اپنے مذہب کی آزمائش اور تحقیق میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ جو شخص ایک عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے اور اُس از لی ابدی غیر متغیر خدا پر یہ مصیبت روا رکھتا ہے کہ وہ ایک عورت کے پیٹ میں نو مہینہ تک بچہ بن کر رہا اور خون حیض کھاتا رہا اور انسانوں کی طرح ایک گندی راہ سے پیدا ہوا اور پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا۔ ایسے قابل شرم اعتقاد والوں کو چاہئے تھا کہ کفارہ کا ایک جھوٹا منصوبہ پیش کرنے سے پہلے اس قابل رحم انسان کی خدائی ثابت کرتے اور پھر دوسرے لوگوں کو اس عجیب خدا کی طرف بلاتے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں کو اپنے مذہب کا ذرہ بھی فکر نہیں ۔ تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ ایک پر چہ امریکن مشن پریس لو دھیانہ میں سے پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی کی کارروائیوں کے واسطے ایم وایلی مینجر کے اہتمام سے نکلا ہے جس کی سرخی یہ ہے۔ وہ گرو جو انسان کو خدا کا فرزند بنا دیتا ہے اس پر چہ میں سکھ صاحبوں پر حملہ کرنے کے لئے آدگرنتھ کا یہ شعر ابتدائے تقریر میں لکھا ہے بے سوچندا اگویں سورج چڑھے ہزار ایسے چانن ہندیاں گر بن گھور اندھار یعنی اگر سو چاند نکلے اور ہزار سورج طلوع کرے تو اتنی روشنی ہونے پر بھی گور و یعنی مرشد اور ہادی کے بغیر سخت اندھیرا ہے پھر اس کے بعد لکھا ہے کہ افسوس کہ ہماری سکھ بھائی ناحق دس بادشاہیوں کو گورو مان بیٹھے ہیں اور اس ست گورو کونہیں ڈھونڈھتے جو منش کو دیوتا بنا سکتا ہے