سَت بچن — Page 264
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶۴ ست بچن ۱۴۰ ہم رتبہ اور پھر یہ کمال کیا ہے کہ لَم يلذ * کا لفظ جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا کسی کا بیٹا نہیں کسی کا جنایا ہوا نہیں خدا کے نانوے اسماء کے ساتھ ملایا ہے مثلاً کہا ہے وہ قدوس ہے کسی کا بیٹا نہیں وہ قیوم ہے کسی کا جنایا ہوا نہیں وہ قادر ہے کسی کی پیٹ سے نہیں نکلا غرض ان صفات کو بار بار ذکر فرمایا ہے جس سے انسان نہایت اطمینان سے یہ سمجھتا ہے کہ باوا صاحب نے عیسائی مذہب کے بارے میں یہ پیشگوئی کی ہے گویا یہ جتلا دیا ہے کہ تین سو برس کے بعد عیسائی مذہب پنجاب میں پھیلے گا اور خبر دار کر دیا ہے کہ وہ لوگ باطل پرست اور کاذب ہیں اور ناحق ایک عاجز انسان کو خدا بنا رہے ہیں اُن کے فریب میں نہ آنا اور اُن کے مذہب کو قبول نہ کرنا کہ وہ جھوٹے مکار ہیں ہم جب اس پیشگوئی کو دیکھتے ہیں تو ایک نہایت عظمت اس کی ہمیں معلوم ہوتی ہے اور پھر کمال یہ ہے کہ قرآنی آیات کے ساتھ اُس کو بیان کیا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ اُس پر آشوب زمانہ میں تم اسلام میں داخل ہو جاؤ کہ یہی دین الہی ہے جس نے کوئی بناوٹی خدا پیش نہیں کیا۔ اسی طرح چولہ صاحب میں بار بار یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا وہ خدا ہے جس نے جسموں اور روحوں کو پیدا کیا ہے اور ایک وقت آنیوالا ہے جو مردے جی اٹھیں گے اور خدا انصاف کرے گا اور یہ اشارات باوا صاحب کے اشعار میں بھی پائے جاتے ہیں بعض اشعار میں وہ خدا کے خالق الارواح ہونے اور دارالجزا پر اس قدر زور دیتے ہیں کہ گویا وہ ایک آنیوالے فرقہ کے وجود کی خبر دے رہے ہیں اور چولہ صاحب اور اُن کے بعض اشعار سے جو ایک ذخیرہ کثیرہ ہے صریح یہ پیشگوئی محسوس ہوتی ہے کہ وہ دیا نند اور اُس کے بدرہ فرقہ کی خبر دے رہے ہیں یہ ایسی پیشگوئیاں ہیں جو ایک دانشمند نظر تامل کے بعد ضرور اُن پر یقین کر لے گا اور ہم نے بہت سوچا کہ اس میں کیا بھید ہے کہ باوانا نک صاحب کے چولہ پر بار بار لا اله الا الله محمدرسول اللہ لکھا گیا ہے اور بار بار یہ ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جس سے خدا تعالیٰ کی راہ ملتی ہے حالانکہ صرف ایک مرتبہ لکھنا کافی تھا آخر اس میں یہ بھید معلوم ہوا کہ با وا صاحب کے چولہ پر یہ بھی ایک قسم کی پیشگوئی اس تاریک زمانہ کے لئے ہے کیونکہ اس پر فریب زمانہ نے بہت سی آنکھوں میں غبار ڈال دی ہے اور بہت سے باطل سہو کتابت ہے لحد يُولد ہونا چاہئے ۔ (ناشر)