سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 550

سَت بچن — Page 263

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶۳ ست بچن ☆ دے دی جب مردانہ او پر گیا تو بابا ولی قندھاری نے اُس سے کہا کہ تمہارے ساتھ بھی تو صاحب (۳۹) کرامات ہیں وہاں ہی پانی کیوں نہیں نکال لیتے اُس نے گرو صاحب سے آ کر اسی طرح عرض کر دیا گورو صاحب نے برچھی گاڑ کر وہاں سے پانی نکال لیا۔ ولی صاحب کا پانی خشک ہو گیا اُنہوں نے طیش میں آکر پہاڑ کو اُن پر گرانا چاہا بابا نانک صاحب نے ہاتھ سے تھام دیا چنانچہ پانچ انگل کا نشان ابتک موجود ہے۔ از انجملہ سیواسنگھ صاحب کے خط میں ایک یہ کرامت لکھی ہے کہ باوانا تک صاحب نے ایک ریٹہ کے درخت کو میٹھا کر دیا اور صاحب موصوف اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ اُس درخت کی اصل جگہ مجھ کو معلوم نہیں کوئی تو دار جیلنگ کی طرف بتلاتا ہے کوئی اوڑیسہ کی طرف بتلاتا ہے بادی یا بیدی وہاں سے لاتے ہیں یہ پھل بہتوں نے کھائے ہیں اور میں نے بھی کھایا ہے ایسا ہی اور بھی کرامات سردار سیو اسنگھ صاحب نے لکھے ہیں مگر افسوس کہ ہم باعث بڑھ جانے رسالہ کے تمام کرامات کو نہیں لکھ سکتے ہمارے نزدیک بابا نانک صاحب کا چولہ صاحب اور اُن کے اشعار جو حقائق اور معارف سے پر ہیں اعلیٰ درجہ کی کرامت ہے اور ایک نہایت عجیب پیشگوئی چولہ صاحب میں پائی جاتی ہے اور وہ ایک ایسی عظیم الشان کرامت ہے کہ اگر باوا صاحب کی طرف سے کوئی کرامت منقول نہ ہوتی تو وہی ایک کافی تھی اور وہ یہ ہے کہ چولہ صاحب پر بار بار قرآن کی اس آیت کو لکھا ہے کہ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ یعنی کہ خدا وہ عظیم الشان خدا ہے جو اس سے پاک ہے جو کسی عورت کے پیٹ سے نکلے اور جنایا جائے اور ہر ایک چیز اُس کی طرف محتاج ہے اور وہ کسی کی طرف محتاج نہیں اور اُس کا کوئی قرابتی اور ہم جنس نہیں نہ باپ نہ ماں نہ بھائی نہ بہن اور نہ کوئی کا نوٹ : صاحب کرامات کا لفظ بھی باوا نا نک صاحب کے اسلام پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر کسی ایسے شخص سے کوئی انجو بہ امر صادر ہو جو مسلمان نہیں تو اُس کے اُس اعجوبہ کا نام کرامت نہیں رکھتے بلکہ اس کا نام استدراج رکھتے ہیں سو بابا ولی قندھاری نے جو باوا نا نک صاحب کو صاحب کرامت قرار دیا جو اس سے صاف طور پر پایا گیا کہ اُنہوں نے کشفی طور پر معلوم کر لیا کہ باوا صاحب اہل اسلام ہیں ورنہ بابا قندھاری اُن کا نام صاحب کرامت نہ رکھتا بلکہ ان کو صاحب استدراج کہتا اور بابا نانک صاحب نے بھی اس لفظ کو رد نہیں کیا اور مردانہ کا پانی کے لئے جانا صاف دلالت کرتا ہے کہ باوا صاحب بلا کراہت مردانہ کے ہاتھ سے کھا پی لیتے تھے ایسے ملکوں میں باوا صاحب کا دودو برس رہنا جہاں ہندوؤں کا نام ونشان نہ تھا جیسا کہ ملک عرب کیا بغیر کھانے پینے کے ممکن تھا۔ منہ ل الاخلاص : ۲ تا ۵