سَت بچن — Page 261
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶۱ ست بچن اور منجملہ باوا صاحب کی کرامات کے چولا صاحب بھی ایک بڑی کرامت ہے ۱۳۷ ہم نے خود اپنی جماعت کے ساتھ ڈیرہ ناٹک میں جا کر چولا صاحب کو دیکھا ہے ایسے لطیف اور خوبصورت حرفوں میں قرآن شریف کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں کہ ایسے کپڑے پر اس خوبصورتی کے ساتھ لکھنا انسان کا کام معلوم نہیں ہوتا اور جابجا ایسے خوبصورت دائرے ہیں جو گویا نہایت عمدہ پر کار کے ساتھ کھینچے گئے ہیں اور جس عمدگی سے کسی جگہ موٹے حروف ہیں اور کسی جگہ بار یک حرفوں میں قرآنی آیات لکھی گئی ہیں اور نہایت موزوں مقامات میں رکھی گئی ہیں اُن پر نظر غور کر کے تعجب آتا ہے کہ کیونکر ایسے ایک معمولی کپڑے پر ایسی لطافت سے یہ تمام آیتیں لکھی گئیں ہیں اور ایک جگہ کلمہ لَا اله الا الله محمد رسول اللهِ نہایت موٹا اور جلی لکھا ہوا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ پڑھنے والوں کے دلوں کو اپنی لطافت اور حسن سے اپنی طرف کھینچ رہا ہے غرض وہ تمام نقوش قدرتی ہی معلوم ہوتے ہیں اور پھر عجب تر یه که با وجود صد با حوادث کے جو ملک پنجاب پر وارد ہوتے رہے اُن سب کے صدمہ سے چولہ صاحب اب تک محفوظ رہا سو بلا شبہ اول درجہ کی کرامت باوا صاحب کی وہی چولہ ہے جن لوگوں نے چولہ صاحب کو نہیں دیکھا یا غور کے ساتھ نظر نہیں کی وہ اس کی عظمت کو پہچان نہیں سکتے لیکن جو لوگ غور سے دیکھیں گے اُن کو بے شک خدا تعالیٰ کی قدرت یاد آئے گی اور بلاشبہ اُس وقت جنم ساکھی کلاں یعنی بھائی بالا والی کی جنم ساکھی کا وہ بیان اُن کی نظر کے سامنے آ جائے گا جس میں لکھا ہے کہ وہ قرآنی آیات قدرت کے ہاتھ سے چولہ صاحب پر لکھی گئی ہیں۔ ہو اور بعض کرامات باوانا تک صاحب سے مجھے کو سردار سیوا سنگھ سپرنٹنڈنٹ مدرسہ خالصہ بہا در امرت سر نے بذریعہ اپنے خط ۲۸ ستمبر ۱۸۹۵ء اطلاع دی چنانچہ بعینہ اُن کے خط کی عبارت ذیل میں لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے سلطان پور میں نواب دولت خاں لودھی اور قاضی کے ساتھ نانک صاحب نوٹ ۔ چولہ صاحب میں بابا نانک صاحب کی ایک یہ صریح کرامت ہے کہ اس میں ایک یہ پیشگوئی پائی جاتی ہے کہ دین اسلام میں بیشمار لوگ داخل ہوں گے پھر اس کے بعد کتنے کروڑ آدمی ہندوستان میں ہندوؤں میں سے مسلمان ہوئے اور ے کروڑ چین میں مسلمان ہوئے اور اب تک افریقہ میں بڑے زور سے اسلام پھیل رہا ہے اور کچھ تعجب نہیں کہ سکھ صاحبوں میں بھی اسلام پھیلے اور ہر طرف خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔ منہ