سَت بچن — Page 247
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۴۷ ست بچن مخالف با تیں ظنی اور مشتبہ ٹھہریں گی جو نفسانی اغراض کی تحریک سے لکھی گئیں نہ ایسی باتیں جن (۱۲۳) کے لکھنے کا کوئی بھی محرک موجود نہیں تھا اسی وجہ سے دانشمند انگریزوں نے باوا صاحب کے اسلام کا صاف اقرار کر دیا ہے اور ہماری طرح یہی رائے لکھی ہے کہ باوا نا تک صاحب در حقیقت مسلمان تھے۔ چنانچہ ہم ذیل میں بطور نمونہ پادری ہیوز صاحب کی رائے باوانا تک صاحب کی نسبت لکھتے ہیں جن کی نظر ڈاکٹر ٹرمپ صاحب کے ترجمہ پر بھی گذر چکی ہے اور جنہوں نے اور بہت سی تحقیقات بھی علاوہ اس کے کی ہے ناظرین کو چاہئے کہ اُس کو غور سے پڑھیں اور وہ یہ ہے ہیوز ڈکشنری آف اسلام صفحه ۵۹۱ ۰۵۸۳ سکھوں کی ابتدائی روایات کو بغور پڑھنے سے پختہ طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نانک نے درحقیقت اپنا مذ ہب بائیں غرض ایجاد کیا کہ اسلام اور ہندو مذہب میں مصالحت ہو جائے جنم ساکھیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اوائل عمر میں نانک (با ایں کہ ہندو تھا) صوفیوں کی تاثیر سے سخت متاثر ہوا اور ان صوفیوں کی پاک صاف طرز زندگی نے جو اُن دنوں بکثرت شمالی ہند اور پنجاب میں منتشر تھے بڑا گہرا اثر اس پر کیا اس بات سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ جس ہندو پر اہل اسلام کی تاثیر ہوگی اس کے کوائف میں تصوف کے نشان پائے جائیں گے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سکھوں کے گوروؤں کی تعلیمات میں ہم صاف صاف تصوف کی آمیزش پاتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ پہلے گور وفقرا کے لباس اور وضع میں زندگی بسر کرتے تھے اور اس طریق سے صاف ظاہر کرتے تھے کہ مسلمانوں کے فرقہ صوفیہ سے ہمارا تعلق ہے تصاویر میں انہیں ایسا دکھایا گیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گلدستے اُن کے ہاتھوں میں ہیں (جیسے مسلمانوں کا طریق تھا ) اور طریق ذکر کے ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔ نانک کی نسبت جو روایات جنم ساکھی میں محفوظ ہیں پوری شہادت دیتی ہیں کہ اسلام سے اُس کا تعلق تھا۔ مذکور الصدر ( نواب دولت خان ۔ قاضی اور نا نک کی گفتگو ) بیان سے صاف پایا جاتا ہے کہ نانک کے پہلے بلا فصل خلفا یقین رکھتے تھے کہ نانک اسلام سے