سَت بچن — Page 248
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۴۸ ست بچن ۱۲۴ بہت قریب ہو گیا تھا اور ہمیں خود اُس وقت کی تحریروں کو دیکھ کر اس امر کی تصدیق ہوتی ہے اور اس میں کوئی بھی شبہ نہیں رہتا اور در حقیقت اور بہت سی شہادتیں اور خود نانک کا مذہب بھی اس خنک کو باقی رہنے نہیں دیتا نانک کے حالات سے یہ بھی واضح ہو گا کہ مسلمان بھی اس کو تعظیم کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور نانک بھی اُن سے ایسی صاف باطنی سے ملتا کہ کھلا کھلا مسجدوں میں اُن کے ساتھ جاتا اور اُس چال سے اپنے ہندو دوستوں اور ہمسایوں کو سخت اضطراب میں ڈالتا کہ وہ در حقیقت مسلمان ہے۔ جب نانک اور شیخ فرید نے سفر میں مرافقت اختیار کی تو لکھا ہے کہ یہ ایک گاؤں بسیار نام میں پہنچے اور جہاں بیٹھتے تو ان کے اُٹھ جانے کے بعد وہاں کے ہند ولوگ اُس جگہ کو گائے کے گوبر سے لیپ کر پاک کرتے۔ اس کا باعث صاف یہ ہے کہ سخت پابند مذہب ہندو ان دونوں رفیقوں کی نشست گاہوں کو نا پاک خیال کرتے تھے اگر نانک مذہب کے لحاظ سے ہندور ہتا تو ایسی باتیں اُس کی نسبت کبھی مذکور نہ ہوتیں۔ ان نتائج کی بڑی مؤید وہ روایت ہے جو نانک کے حج مکہ کے سفر کی نسبت ہے اگر چہ ڈاکٹر ٹرمپ کے سفر مکہ کے بارے میں یہ رائے ہے کہ یہ قصہ موضوعہ معلوم ہوتا ہے مگر بہر حال اس داستان کی ایجاد ہے صاف بتاتی ہے کہ نانک کے محرم راز دوست نانک کے مذہبی حالات پر نظر کر کے سفر حج کو کچھ بھی بعید از عقل نہیں سمجھتے تھے نانک کے مقالات میں اُس سے منقول ہے کہ اُس نے کہا۔ اگر چہ وہ مرد ہیں مگر حقیقت میں عورتیں ہیں جو محد مصطفی اور کتاب اللہ ( قرآن ) کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے نانک اسلام کے نبی محمد کی شفاعت کا اعتراف کرتا ہے اور بھنگ شراب وغیرہ اشیاء کے استعمال سے منع کرتا ہے دوزخ بہشت کا اقرار کرتا اور انسان کے حشر اور یوم الجزا کا قائل ہے سولاریب یہ اقوال جو نانک کی طرف منسوب ہیں صاف ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا قائل اور معتقد ہے ۔ منه + نوٹ ۔اس سے ثابت ہے کہ صلحاء اہل اسلام کی صحبت میں رہ کر کیسی کیسی پاک تاثیر یں ہندوؤں کے دلوں میں ہوتی رہی ہیں جن سے تھوڑے ہی عرصہ میں چھ کروڑ ہندو مسلمان ہو گیا۔ • ا نوٹ ۔ بسیار کسی گاؤ کا نام نہیں مترجم کی غلطی ہے اصل مطلب یہ ہے کہ وہ بہت سے دیہات میں پھرے اور ہند و سخت بغض سے پیش آئے کیونکہ بسیار بہت کو کہتے ہیں ۔ منہ یہ نوٹ ۔ اور ہم نے انگریزی کی اصل عبارت ہیوز کی معہ ٹرمپ کی عبارت کے اخیر کتاب میں شامل کر دی ہے ناظرین جو انگریزی پڑھ سکتے ہیں اُس کو ضرور پڑھیں ۔ منہ